اشاعتیں

اگست, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

قیامِ پاکستان اور ادھورا خواب: اسلامی نظام کے نفاذ اور احتساب کی ضرورت

قیامِ پاکستان اور ادھورا خواب: اسلامی نظام کے نفاذ اور احتساب کی ضرورت 1. مقدمہ: آزادی کی قیمت اور مقصدِ تخلیق 1947 کی آزادی محض ایک جغرافیائی لکیر کی کھینچائی یا ایک سیاسی سمجھوتے کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ اس عظیم نظریاتی جدوجہد کا نقطہ عروج تھا جس کے پسِ پردہ "اسلامی ضابطہ حیات" (Deen) کا ایک ہمہ گیر تصور موجود تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں نے ایک ایسی ریاست کا خواب دیکھا تھا جہاں وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو محض چند رسومات کے بجائے ایک مکمل الہٰی نظام کے تابع کر سکیں۔ تحریکِ پاکستان کی فکری بنیاد یہ تھی کہ اسلام ایک ایسا 'دین' ہے جو ریاست، قانون اور سماج کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آج سات دہائیوں بعد، ایک پولیٹیکل سائنس کے طالب علم اور ایک پاکستانی کے طور پر ہمیں یہ تجزیاتی سوال اٹھانا ہوگا: کیا ہم نے اس ریاست میں وہ عدل، مشاورت اور احتساب قائم کر لیا جس کے لیے یہ قربانیاں دی گئی تھیں؟ یا ہم نے صرف حکمرانوں کے نام بدلے اور نظام وہی پرانا رہنے دیا؟ 2. پہلا اہم نکتہ: حاکمیتِ الہٰی بمقابلہ عوامی حاکمیت اسلامی نظامِ حکومت اور جدید مغربی جمہوریت کے درمیان س...

اسلامی طرزِ حکمرانی: الماوردی کے نظریات اور جدید دور کے لیے ۵ اہم ترین اسباق

اسلامی طرزِ حکمرانی: الماوردی کے نظریات اور جدید دور کے لیے ۵ اہم ترین اسباق جدید دنیا میں جب ریاستیں سیاسی عدم استحکام، کرپشن اور انتظامی بحرانوں کی زد میں ہیں، ایک پائیدار نظامِ حکومت کی تلاش تیز تر ہو گئی ہے۔ اس فکری سفر میں جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو امام الماوردی (وفات 1058ء) کی شخصیت ایک قد آور ماہرِ ریاست، سفارت کار اور منصفِ اعلیٰ (قاضی القضاۃ) کے طور پر ابھرتی ہے۔ ان کی شہرہ آفاق تصنیف "الاحکام السلطانیہ" محض کوئی خیالی نظریہ نہیں، بلکہ ان کے گہرے عملی تجربات کا نچوڑ ہے۔ الماوردی نے یہ شاہکار اس وقت تحریر کیا جب خلافتِ عباسیہ کی سیاسی گرفت کمزور پڑ رہی تھی اور آلِ بویہ (Buyids) اور سلجوقی سلاطین کے غلبے نے خلیفہ کے انتظامی اختیارات کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ معروف محقق این لیمبٹن (Ann Lambton) کے مطابق، الماوردی کا مقصد ان غاصب قوتوں کے سامنے خلافت کے مقام کو مستحکم کرنا اور ریاست کو دوبارہ اسلامی اصولوں پر کھڑا کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بیسویں صدی کے مفکرین بھی اسے جدید اسلامی ریاست کے لیے ایک بنیادی ریفرنس کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ذیل میں الماوردی کے افکار کی روشن...