واقعہ کربلا کا حقیقی پیغام اور عصرِ حاضر میں 'اسلامی احتسابی جماعت': کیا ہم اصل مقصد بھول گئے؟
واقعہ کربلا کا حقیقی پیغام اور عصرِ حاضر میں 'اسلامی احتسابی جماعت': کیا ہم اصل مقصد بھول گئے؟ تعارف: ایک قدیم سوال اور ہماری آج کی زندگی عمرانی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو انسانی معاشروں کا عروج و زوال ان کے 'احتسابی نظام' سے جڑا ہوتا ہے۔ واقعہ کربلا محض چودہ سو سال پرانا ایک المناک حادثہ نہیں، بلکہ یہ غیر جوابدہ اقتدار کی ادارتی تشکیل (Institutionalization) کے خلاف ایک ایسی ساختی مزاحمت (Structural Resistance) ہے جو رہتی دنیا تک کے لیے ایک زندہ جاوید سیاسی فلسفہ بن چکی ہے۔ آج جب ہم عصرِ حاضر کے سیاسی اور سماجی بگاڑ کا مشاہدہ کرتے ہیں، تو یہ سوال نہایت اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ کیا ہم نے کربلا کے اس اصل سیاسی جوہر کو فراموش تو نہیں کر دیا جو ملوکیت اور مطلق العنان اقتدار کے سامنے خاموشی کو حسینیت کے منافی قرار دیتا ہے؟ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ جب 'سماجی نظم' (Social Order) عدل سے عاری ہو جائے، تو اس کی اصلاح کے لیے آواز اٹھانا محض جذباتی ردِعمل نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی اور شعوری فریضہ ہے۔ کربلا: ملوکیت کے خلاف 'امر بالمعروف' کا اعلانِ جنگ واقعہ کربلا کا ا...