واقعہ کربلا کا حقیقی پیغام اور عصرِ حاضر میں 'اسلامی احتسابی جماعت': کیا ہم اصل مقصد بھول گئے؟

واقعہ کربلا کا حقیقی پیغام اور عصرِ حاضر میں 'اسلامی احتسابی جماعت': کیا ہم اصل مقصد بھول گئے؟


تعارف: ایک قدیم سوال اور ہماری آج کی زندگی


عمرانی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو انسانی معاشروں کا عروج و زوال ان کے 'احتسابی نظام' سے جڑا ہوتا ہے۔ واقعہ کربلا محض چودہ سو سال پرانا ایک المناک حادثہ نہیں، بلکہ یہ غیر جوابدہ اقتدار کی ادارتی تشکیل (Institutionalization) کے خلاف ایک ایسی ساختی مزاحمت (Structural Resistance) ہے جو رہتی دنیا تک کے لیے ایک زندہ جاوید سیاسی فلسفہ بن چکی ہے۔ آج جب ہم عصرِ حاضر کے سیاسی اور سماجی بگاڑ کا مشاہدہ کرتے ہیں، تو یہ سوال نہایت اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ کیا ہم نے کربلا کے اس اصل سیاسی جوہر کو فراموش تو نہیں کر دیا جو ملوکیت اور مطلق العنان اقتدار کے سامنے خاموشی کو حسینیت کے منافی قرار دیتا ہے؟ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ جب 'سماجی نظم' (Social Order) عدل سے عاری ہو جائے، تو اس کی اصلاح کے لیے آواز اٹھانا محض جذباتی ردِعمل نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی اور شعوری فریضہ ہے۔

کربلا: ملوکیت کے خلاف 'امر بالمعروف' کا اعلانِ جنگ


واقعہ کربلا کا اصل محرک "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" (نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا) کا وہ قرآنی حکم ہے جو معاشرے میں خیر کے قیام اور شر کے خاتمے کو مومن کی بنیادی ذمہ داری قرار دیتا ہے۔ ملوکیت، جو دراصل جوابدہی سے عاری اقتدار کا نام ہے، جب اسلامی نظامِ سیاست کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنے لگی، تو امام حسینؑ نے خاموشی کی بجائے احتجاج اور عملی مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ سورس مواد کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ اسلام میں حکمران کی اطاعت اندھی تقلید کا نام نہیں ہے۔

امام حسینؑ کے مشن کی روح کو درج ذیل تصور میں بخوبی سمجھا جا سکتا ہے:


"اسلامی سیاسی فکر میں 'انقلاب کی ذمہ داری' (Duty of Revolution) اس وقت فرض ہو جاتی ہے جب حکمران الٰہی قوانین سے صریح انحراف کرے۔ جیسا کہ فرمانِ نبویؐ ہے: 'خالق کی معصیت میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں'۔ کربلا اسی اصول کا عملی اطلاق تھا کہ جب نظام 'امر بالمعروف' کی روح کھو دے، تو ایک منظم جدوجہد کے ذریعے اس کی اصلاح کرنا ہی حسینیت ہے۔"

خلافتِ راشدہ کا ماڈل—جہاں حکمران جوابدہ تھا


واقعہ کربلا کو سمجھنے کے لیے اس سیاسی ماڈل کا ادراک ضروری ہے جسے بچانے کے لیے امام حسینؑ میدان میں نکلے تھے۔ خلافتِ راشدہ (632-661 عیسوی) کا نظامِ حکومت دراصل 'اختیارات کی تقسیم' (Separation of Powers) کا ایک مثالی نمونہ تھا۔ اس دور میں 'شوریٰ' (مشاورت) اور 'بیعت' (معاہدہ) کے ذریعے حکمران کو عوام اور قانون کے سامنے جوابدہ بنایا گیا تھا۔ یہ ایک ایسا نظام تھا جہاں 'علماء' (قانون کے محافظ) اور 'خلیفہ' (انتظامیہ) کے درمیان ایک توازن موجود تھا، جو کسی بھی قسم کی آمریت کی راہ میں رکاوٹ تھا۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے پہلے ہی خطبے میں اس 'ادارتی احتساب' (Institutional Accountability) کی بنیاد رکھی:


"میں آپ لوگوں میں بہترین نہیں ہوں؛ مجھے آپ کے مشورے اور مدد کی ضرورت ہے۔ اگر میں اچھا کام کروں تو میری مدد کرو، اور اگر میں غلطی کروں تو میری اصلاح کرو۔ جب تک میں خدا اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کروں، میری اطاعت کرو؛ اور اگر میں ان کے احکامات سے انحراف کروں، تو تم پر میری اطاعت واجب نہیں رہی۔"

'اسلامی احتسابی جماعت'—تاریخی تسلسل کی ایک جدید کڑی


جدید دور کے سیاسی بحرانوں کا حل 'اسلامی احتسابی جماعت' کے انقلابی نظریے میں پوشیدہ ہے۔ پی ڈی ایف "انقلابی نظریہ" کے مطابق، اس جماعت کا اساسی پتھر 'اقتدارِ الٰہی' (Sovereignty of God) کی بحالی ہے۔ یہ جماعت محض سیاست برائے سیاست کی قائل نہیں، بلکہ خلافتِ راشدہ کے اس احتسابی نظام کو عصرِ حاضر میں دوبارہ زندہ کرنا چاہتی ہے جہاں حکمران اپنی مرضی کے بجائے الٰہی قوانین کے سامنے جوابدہ ہو۔ یہ جماعت کربلا کے اسی پیغام کو ایک منظم تحریک کی شکل دے کر معاشرے میں ایک ایسی تبدیلی لانا چاہتی ہے جو صرف چہروں کی نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی ہو۔

رکنیت کا کڑا معیار—محض ہجوم نہیں، تربیت یافتہ افراد


ایک انقلابی اور احتسابی جماعت کے لیے نظم و ضبط اور نظریاتی پختگی ناگزیر ہے۔ "طریقہ شمولیت" (Tariqa Shamuliyat) کے مطابق، یہ جماعت کسی بھی قسم کے 'ہجومی طرزِ فکر' (Mob Mentality) سے بچنے کے لیے رکنیت کا ایک انتہائی سخت معیار رکھتی ہے، جس کا مرکزی حصہ تین ماہ کی آزمائشی مدت (Candidate Stage) ہے تاکہ امیدوار کی فکری پختگی کو پرکھا جا سکے۔

جماعت میں شامل ہونے کے 7 مراحل درج ذیل ہیں:


1. درخواستِ شمولیت: امیدوار کی مکمل ذاتی، تعلیمی اور سابقہ وابستگیوں کی تفصیلات پر مبنی فارم۔
2. ابتدائی انٹرویو: شخصیت، نظریات اور مقاصدِ زندگی کا گہرا جائزہ تاکہ ذہنی ہم آہنگی کو پرکھا جا سکے۔
3. تیاری و مشاہدہ (امیدوار درجہ): کم از کم تین ماہ کی آزمائشی مدت جس میں جماعت کے دستور، انقلابی نظریے اور لائحہ عمل کا گہرا مطالعہ کیا جاتا ہے۔
4. تحریری و زبانی امتحان: تربیتی نصاب اور نظریاتی پختگی کی جانچ کے لیے باقاعدہ امتحانی مرحلہ۔
5. ہمانِ عہد (حلف): قیادت کے سامنے جماعت کے اصولوں پر کاربند رہنے کا باقاعدہ حلف۔
6. سندِ رکنیت کا اجرا: تمام مراحل کامیابی سے طے کرنے کے بعد باقاعدہ رکنیت کا عطا ہونا۔
7. ذمہ داریوں کی تفویض: رکن کی صلاحیت کے مطابق اسے دعوت، تربیت، انتظامی امور یا 'امر بالمعروف' کی سرگرمیوں میں شامل کرنا۔

'سیاسی اسلام' اور مغربی استعمار کا مقابلہ


تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو 1922 میں سلطنتِ عثمانیہ کے زوال (Ottoman Collapse) نے عالمِ اسلام میں ایک بہت بڑا سیاسی خلا پیدا کیا۔ مغربی استعمار نے مسلمانوں کے روایتی احتسابی ڈھانچوں کو توڑ کر انہیں بکھرے ہوئے، سیکیولر اور غیر جوابدہ ریاستوں میں تقسیم کر دیا۔ اسی تناظر میں بیسویں صدی میں اسلامی تحریکوں (جیسے اخوان المسلمون اور دیگر) کا ظہور ہوا۔ 'اسلامی احتسابی جماعت' اسی عالمی بیداری کا حصہ ہے جو مغربی سامراجی اثرات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے 'غیر جوابدہ اقتدار' کو چیلنج کرتی ہے اور 'شریعہ' کی بنیاد پر ایک عدل پرور متبادل پیش کرتی ہے۔

حاصلِ کلام: مستقبل کی راہ اور ایک فکر انگیز سوال


کربلا کا دائمی سبق یہ ہے کہ حق کا دفاع کسی بھی دور میں خاموشی یا مصلحت کا نام نہیں ہے۔ احتساب چاہے اپنے نفس کا ہو یا حکمرانوں کا، یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ 'اسلامی احتسابی جماعت' کا مقصد اسی 'حسینی فکر' کو ادارتی شکل دینا ہے تاکہ معاشرے کے بہترین افراد منظم ہو کر باطل کے خلاف ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن سکیں۔

آج ہمیں اس فکری موڑ پر کھڑے ہو کر خود سے یہ سوال کرنا ہوگا: "اگر آج ہمارے سامنے وہی یزیدی نظامِ فکر موجود ہو جو ادارتی احتساب سے عاری اور ظلم پر مبنی ہے، تو کیا ہم محض تماشائی بنے رہیں گے یا حسینیت کے حقیقی وارث بن کر 'احتساب' کا علم بلند کریں گے؟"


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

دعوت عام

اسلامی سیاست کے وہ ۵ حقائق جو آپ کو حیران کر دیں گے: ایک فکری مطالعہ