اشاعتیں

قیامِ پاکستان اور ادھورا خواب: اسلامی نظام کے نفاذ اور احتساب کی ضرورت

قیامِ پاکستان اور ادھورا خواب: اسلامی نظام کے نفاذ اور احتساب کی ضرورت 1. مقدمہ: آزادی کی قیمت اور مقصدِ تخلیق 1947 کی آزادی محض ایک جغرافیائی لکیر کی کھینچائی یا ایک سیاسی سمجھوتے کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ اس عظیم نظریاتی جدوجہد کا نقطہ عروج تھا جس کے پسِ پردہ "اسلامی ضابطہ حیات" (Deen) کا ایک ہمہ گیر تصور موجود تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں نے ایک ایسی ریاست کا خواب دیکھا تھا جہاں وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو محض چند رسومات کے بجائے ایک مکمل الہٰی نظام کے تابع کر سکیں۔ تحریکِ پاکستان کی فکری بنیاد یہ تھی کہ اسلام ایک ایسا 'دین' ہے جو ریاست، قانون اور سماج کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آج سات دہائیوں بعد، ایک پولیٹیکل سائنس کے طالب علم اور ایک پاکستانی کے طور پر ہمیں یہ تجزیاتی سوال اٹھانا ہوگا: کیا ہم نے اس ریاست میں وہ عدل، مشاورت اور احتساب قائم کر لیا جس کے لیے یہ قربانیاں دی گئی تھیں؟ یا ہم نے صرف حکمرانوں کے نام بدلے اور نظام وہی پرانا رہنے دیا؟ 2. پہلا اہم نکتہ: حاکمیتِ الہٰی بمقابلہ عوامی حاکمیت اسلامی نظامِ حکومت اور جدید مغربی جمہوریت کے درمیان س...

اسلامی طرزِ حکمرانی: الماوردی کے نظریات اور جدید دور کے لیے ۵ اہم ترین اسباق

اسلامی طرزِ حکمرانی: الماوردی کے نظریات اور جدید دور کے لیے ۵ اہم ترین اسباق جدید دنیا میں جب ریاستیں سیاسی عدم استحکام، کرپشن اور انتظامی بحرانوں کی زد میں ہیں، ایک پائیدار نظامِ حکومت کی تلاش تیز تر ہو گئی ہے۔ اس فکری سفر میں جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو امام الماوردی (وفات 1058ء) کی شخصیت ایک قد آور ماہرِ ریاست، سفارت کار اور منصفِ اعلیٰ (قاضی القضاۃ) کے طور پر ابھرتی ہے۔ ان کی شہرہ آفاق تصنیف "الاحکام السلطانیہ" محض کوئی خیالی نظریہ نہیں، بلکہ ان کے گہرے عملی تجربات کا نچوڑ ہے۔ الماوردی نے یہ شاہکار اس وقت تحریر کیا جب خلافتِ عباسیہ کی سیاسی گرفت کمزور پڑ رہی تھی اور آلِ بویہ (Buyids) اور سلجوقی سلاطین کے غلبے نے خلیفہ کے انتظامی اختیارات کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ معروف محقق این لیمبٹن (Ann Lambton) کے مطابق، الماوردی کا مقصد ان غاصب قوتوں کے سامنے خلافت کے مقام کو مستحکم کرنا اور ریاست کو دوبارہ اسلامی اصولوں پر کھڑا کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بیسویں صدی کے مفکرین بھی اسے جدید اسلامی ریاست کے لیے ایک بنیادی ریفرنس کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ذیل میں الماوردی کے افکار کی روشن...

واقعہ کربلا کا حقیقی پیغام اور عصرِ حاضر میں 'اسلامی احتسابی جماعت': کیا ہم اصل مقصد بھول گئے؟

واقعہ کربلا کا حقیقی پیغام اور عصرِ حاضر میں 'اسلامی احتسابی جماعت': کیا ہم اصل مقصد بھول گئے؟ تعارف: ایک قدیم سوال اور ہماری آج کی زندگی عمرانی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو انسانی معاشروں کا عروج و زوال ان کے 'احتسابی نظام' سے جڑا ہوتا ہے۔ واقعہ کربلا محض چودہ سو سال پرانا ایک المناک حادثہ نہیں، بلکہ یہ غیر جوابدہ اقتدار کی ادارتی تشکیل (Institutionalization) کے خلاف ایک ایسی ساختی مزاحمت (Structural Resistance) ہے جو رہتی دنیا تک کے لیے ایک زندہ جاوید سیاسی فلسفہ بن چکی ہے۔ آج جب ہم عصرِ حاضر کے سیاسی اور سماجی بگاڑ کا مشاہدہ کرتے ہیں، تو یہ سوال نہایت اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ کیا ہم نے کربلا کے اس اصل سیاسی جوہر کو فراموش تو نہیں کر دیا جو ملوکیت اور مطلق العنان اقتدار کے سامنے خاموشی کو حسینیت کے منافی قرار دیتا ہے؟ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ جب 'سماجی نظم' (Social Order) عدل سے عاری ہو جائے، تو اس کی اصلاح کے لیے آواز اٹھانا محض جذباتی ردِعمل نہیں بلکہ ایک گہرا سیاسی اور شعوری فریضہ ہے۔ کربلا: ملوکیت کے خلاف 'امر بالمعروف' کا اعلانِ جنگ واقعہ کربلا کا ا...

اسلامی احتسابی جماعت کا دستور: کیا یہ جدید دور میں سماجی اصلاح کا نیا ماڈل ہے؟

اسلامی احتسابی جماعت کا دستور: کیا یہ جدید دور میں سماجی اصلاح کا نیا ماڈل ہے؟ آج کا دور اپنی تمام تر ڈیجیٹل ترقی کے باوجود اخلاقی انحطاط، سماجی بے راہ روی اور فکری پراگندگی کا شکار ہے۔ مادہ پرستی کی اس دوڑ میں انسانیت کی بنیادیں کھوکھلی ہو رہی ہیں اور محض انفرادی وعظ و نصیحت اس طوفان کے سامنے بند باندھنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ ایسے میں ایک منظم، تادیبی اور نظریاتی گروہ کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی جو معاشرے کی جڑوں میں موجود برائی کا قلع قمع کر سکے۔ اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے محمد جنید احتسابی نے "اسلامی احتسابی جماعت" کی بنیاد رکھی ہے۔ یہ کوئی روایتی مذہبی گروہ نہیں، بلکہ ایک ایسا ڈھانچہ ہے جو "عملی احتساب" کو سماجی اصلاح کا بنیادی ستون قرار دیتا ہے۔ ایک تجزیہ نگار کی حیثیت سے جب ہم اس جماعت کے دستور کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں مروجہ تنظیمی ڈھانچوں سے ہٹ کر ایک منفرد اور کڑا ماڈل نظر آتا ہے۔ 1۔ مشن کی ہمہ گیری: امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور اتحادِ امت جماعت کا نصب العین محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی و فکری منشور ہے۔ اس کے لوگو میں درج "اتح...

تعارفِ اسلامی احتسابی جماعت: ایک منظم سماجی و دینی تحریک کا آغاز

تصویر
تعارفِ اسلامی احتسابی جماعت: ایک منظم سماجی و دینی تحریک کا آغاز 1. تمہید: وقت کی ضرورت اور جماعت کا قیام تاریخ کے اس نازک موڑ پر جہاں اخلاقی انحطاط، ریاستی عدم استحکام اور معاشرتی اقدار کا بکھراؤ واضح ہے، 'اسلامی احتسابی جماعت' محض ایک روایتی گروہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک جامع آئینی متبادل کے طور پر ابھری ہے۔ 15 فروری 2025 کو بانی محمد جنید احتسابی کے زیرِ قیادت اس جماعت کا قیام اس تزویراتی ضرورت کا ثمر ہے جو 'احتساب' اور 'اصلاح' کو اپنی جدوجہد کا محور بناتی ہے۔ یہ جماعت کسی جذباتی لہر کا نام نہیں، بلکہ 66 دفعات پر مشتمل ایک مضبوط اور مفصل دستور کے تحت قائم ایک قانونی و تنظیمی ڈھانچہ ہے، جو معاشرے کے ہر طبقے کو نظم و ضبط اور نظریاتی پختگی کی دعوت دیتا ہے۔ یہ فکری گہرائی اور تنظیمی پختگی ہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک صالح معاشرے کی عمارت استوار کی جا سکتی ہے۔ 2. نظریہ اور نصب العین: امر بالمعروف و نہی عن المنکر جماعت کا نظریہ اس آفاقی اصول پر قائم ہے کہ کسی بھی معاشرے کی بقا "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" (نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے) میں مضمر ہے۔ دس...

اسلامی سیاست کے وہ ۵ حقائق جو آپ کو حیران کر دیں گے: ایک فکری مطالعہ

اسلامی سیاست کے وہ ۵ حقائق جو آپ کو حیران کر دیں گے: ایک فکری مطالعہ عام طور پر جب ہم اسلام کا ذکر کرتے ہیں، تو ذہن فوری طور پر عبادات، اخلاقیات اور انفرادی روحانیت کی طرف جاتا ہے۔ بہت سے لوگ اسلام کو محض چند مذہبی رسومات کا مجموعہ سمجھتے ہیں، لیکن ایک سیاسی مورخ کی نظر سے دیکھا جائے تو اسلام تاریخِ عالم میں ایک نہایت پیچیدہ اور جدید انتظامی نظام کے طور پر ابھرا۔ آج ہم ان پانچ "فراموش کردہ چابیوں" کا ذکر کریں گے جو اسلامی نظامِ حکومت کے اصل جوہر کو سمجھنے میں مدد دیں گی اور یہ ثابت کریں گی کہ اسلام کی سیاسی اساس محض عقیدت نہیں بلکہ ایک ٹھوس فکری ضرورت پر مبنی تھی۔ ۱۔ ریاست کی ہنگامی بنیاد: قبائلی عصبیت کا متبادل اسلام کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ یہ اپنی ابتدا ہی میں ایک ریاست کی شکل میں سامنے آیا۔ عیسائیت کے برعکس، جسے شہنشاہ قسطنطین کے دور تک ایک اقلیتی اور زیرِ عتاب تحریک کے طور پر رہنا پڑا، اسلام نے مدینہ ہجرت کے فوراً بعد ایک سیاسی وجود حاصل کر لیا۔ ماہرین (جیسے ڈینیل پائپس) کے مطابق یہ کوئی اتفاق نہیں تھا بلکہ ایک ضرورت تھی۔ مدینہ ایک "بے ریاست" (Stateless) خط...

اسلامی احتسابی جماعت: وہ 5 حیرت انگیز نکات جو اس کے دستور کو منفرد بناتے ہیں

اسلامی احتسابی جماعت: وہ 5 حیرت انگیز نکات جو اس کے دستور کو منفرد بناتے ہیں 1. تعارف: کیا ایک تنظیم محض نام سے پہچانی جاتی ہے؟ کسی بھی نظریاتی تحریک کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ اس کے بلند و بانگ نعروں سے نہیں، بلکہ اس کے "دستوری ڈی این اے" (Constitutional DNA) سے ہوتا ہے۔ دستور ہی وہ بنیاد ہے جو کسی جماعت کو محض ایک ہجوم کے بجائے ایک منظم قوت میں تبدیل کرتی ہے۔ "اسلامی احتسابی جماعت" کا منشور محض خشک قانونی ضوابط کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا نظامِ فکر ہے جو مروجہ سیاسی کلچر کو یکسر چیلنج کرتا ہے۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ تمام تنظیمیں ایک ہی طرح کام کرتی ہیں، تو اس جماعت کے دستور میں چھپے یہ پانچ نکات آپ کو حیران کر دیں گے۔ 2. عہدے کی خواہش؟ تو پھر آپ نااہل ہیں! جدید دور کی سیاست میں عہدہ حاصل کرنا کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن اسلامی احتسابی جماعت نے اس تصور کو الٹ دیا ہے۔ دستور کی دفعہ 9 اور 22 کے تحت، یہاں قیادت کا معیار "نفس کی نفی" پر رکھا گیا ہے۔ مروجہ نظام میں جہاں ہر کوئی اقتدار کی دوڑ میں شامل ہے، اس جماعت میں وہ شخص امیر یا شوریٰ کا رکن ...