دورِ حاضر میں اسلامی نظام کا نفاذ اور اسلامی احتسابی جماعت کا فکری و تحقیقی موقف
دورِ حاضر میں اسلامی نظام کا نفاذ اور اسلامی احتسابی جماعت کا فکری و تحقیقی موقف 1. مقدمہ: دورِ حاضر کا سیاسی تناظر اور نظامِ طاغوت کا تسلط عصرِ حاضر کا بین الاقوامی سیاسی و معاشی فریم ورک شدید فکری، اخلاقی اور عملی بحرانوں کا شکار ہے۔ عالمی سطح پر مغرب کی سیاسی و معاشی بالادستی، سیکیولر ازم اور مختلف شکلوں میں مسلط طاغوتی و جابرانہ نظاموں (Dictatorial, Monarchical and Secular Systems) نے انسانیت کو فکری انتشار، طبقاتی تفریق اور معاشی استحصال کے سوا کچھ فراہم نہیں کیا۔ اس وقت دنیا کے 57 OIC رکن ممالک طویل عرصے سے یورپی استعمار اور اس کے قائم کردہ جدید طاغوتی ڈھانچوں کے زیرِ اثر چلے آ رہے ہیں۔ مغربی سیکیولر جمہوریت میں انسانی خواہشات اور بندوں کی مطلق العنان قانون سازی کو اقتدار کا سرچشمہ مان لیا گیا ہے، جبکہ عملی سطح پر جمہوری نعروں کے پسِ پردہ ملوکیت، فوجی آمریتیں، اور سرمایہ دارانہ استحصالی طبقات غالب ہیں۔ اس استحصالی غلبے کی ایک عکاسی مغربی جنگی جنون کے ان اعداد و شمار سے ہوتی ہے جہاں محض "دہشت گردی کے خلاف جنگ" (War on Terror) کے نام پر 8 کھرب (8 Trillion) ڈالر پانی کی طر...