قیامِ پاکستان اور ادھورا خواب: اسلامی نظام کے نفاذ اور احتساب کی ضرورت
قیامِ پاکستان اور ادھورا خواب: اسلامی نظام کے نفاذ اور احتساب کی ضرورت
1. مقدمہ: آزادی کی قیمت اور مقصدِ تخلیق
1947 کی آزادی محض ایک جغرافیائی لکیر کی کھینچائی یا ایک سیاسی سمجھوتے کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ اس عظیم نظریاتی جدوجہد کا نقطہ عروج تھا جس کے پسِ پردہ "اسلامی ضابطہ حیات" (Deen) کا ایک ہمہ گیر تصور موجود تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں نے ایک ایسی ریاست کا خواب دیکھا تھا جہاں وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں کو محض چند رسومات کے بجائے ایک مکمل الہٰی نظام کے تابع کر سکیں۔ تحریکِ پاکستان کی فکری بنیاد یہ تھی کہ اسلام ایک ایسا 'دین' ہے جو ریاست، قانون اور سماج کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ آج سات دہائیوں بعد، ایک پولیٹیکل سائنس کے طالب علم اور ایک پاکستانی کے طور پر ہمیں یہ تجزیاتی سوال اٹھانا ہوگا: کیا ہم نے اس ریاست میں وہ عدل، مشاورت اور احتساب قائم کر لیا جس کے لیے یہ قربانیاں دی گئی تھیں؟ یا ہم نے صرف حکمرانوں کے نام بدلے اور نظام وہی پرانا رہنے دیا؟
2. پہلا اہم نکتہ: حاکمیتِ الہٰی بمقابلہ عوامی حاکمیت
اسلامی نظامِ حکومت اور جدید مغربی جمہوریت کے درمیان سب سے بنیادی فرق "حاکمیت" (Sovereignty) کے تصور کا ہے۔ مغربی فلسفہِ سیاست میں حاکمیتِ اعلیٰ عوام کے پاس ہوتی ہے، جبکہ اسلامی تناظر میں اقتدارِ اعلیٰ صرف اللہ تبارک و تعالیٰ کا ہے۔ پاکستان کی "قراردادِ مقاصد" اسی نظریے کی علمبردار ہے، جس کے مطابق ریاست کو حاصل اختیارات ایک "مقدس امانت" ہیں جنہیں اللہ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہ کر استعمال کرنا لازم ہے۔
فکری تناظر میں دیکھا جائے تو ایک اسلامی حکمران (خلیفہ یا سربراہِ مملکت) اور ایک مطلق العنان بادشاہ میں یہی فرق ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے ایک مرتبہ دریافت فرمایا:
"خدا کی قسم، میں نہیں جانتا کہ میں خلیفہ ہوں یا بادشاہ؟ اگر میں بادشاہ ہوں تو یہ ایک خوفناک بات ہے۔" کسی نے جواب دیا: "اے امیر المؤمنین! ان دونوں میں بڑا فرق ہے۔ خلیفہ حق کے سوا کچھ لیتا نہیں اور حق کے سوا کہیں خرچ نہیں کرتا، جبکہ بادشاہ لوگوں پر ظلم کرتا ہے اور ایک سے چھین کر دوسرے کو دیتا ہے۔" حضرت عمرؓ یہ سن کر خاموش ہو گئے۔
لہٰذا، اسلامی ریاست میں عوامی نمائندگی کا مقصد اللہ کی حاکمیت کے تحت نظمِ مملکت کو انصاف کے ساتھ چلانا ہے، نہ کہ اپنی خواہشات کے مطابق قانون سازی کرنا۔
3. دوسرا اہم نکتہ: نظامِ مشاورت (شوریٰ) اور ادارہ جاتی ارتقاء
مشاورت یا "شوریٰ" اسلامی نظامِ سیاست کا وہ ستون ہے جس پر پوری ریاست کی اخلاقی عمارت کھڑی ہے۔ تاہم، یہاں ایک اہم علمی نکتے کی وضاحت ضروری ہے۔ امام الماوردی نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف 'الاحکام السلطانیہ' میں ریاست کے 20 اہم وظائف (Wilayat) کا ذکر کیا ہے، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ ان وظائف کی فہرست میں ایک رسمی "مجلسِ شوریٰ" بطور مستقل ادارہ غائب ہے۔ اس سے یہ تجزیاتی نکتہ سامنے آتا ہے کہ شوریٰ محض ایک مخصوص 'محکمہ' نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر 'اصول' ہے جو ریاست کے ہر شعبے میں سرایت کیے ہوئے ہے۔
جدید دور کے مفکرین، جیسے مفتی تقی عثمانی اور ہاشم کمالی، اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسلام نے سیاست کے بنیادی خطوط تو فراہم کر دیے ہیں، لیکن انتظامی ڈھانچے کی تفصیلات (مثلاً پارلیمان کی شکل، وزارتوں کی تعداد یا فیڈرلزم) کو وقت اور حالات کی ضرورت پر چھوڑ دیا ہے۔
"اسلام سیاست کے میدان میں بنیادی رہنما اصول فراہم کرتا ہے، لیکن تمام تفصیلات طے نہیں کیں۔ یہ مسلمانوں پر ہے کہ وہ اپنی انتظامی ضرورت کے مطابق شعبہ جات اور مشاورت کے طریقے وضع کریں۔" (مفتی تقی عثمانی)
آج کے دور میں 'مجلسِ نواب' (House of Representatives) کو شوریٰ کی جدید شکل قرار دیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ وہ شریعت کے بنیادی مقاصد کے تحت کام کرے۔
4. تیسرا اہم نکتہ: عدل کی بالادستی اور 'دار العدل'
اسلامی نظامِ عدل کی بنیاد "مساوات" پر ہے جہاں قانون کی نظر میں خلیفہ اور عام شہری برابر ہیں۔ موجودہ دور میں جسے ہم عدلیہ کی آزادی کہتے ہیں، وہ اسلامی تاریخ میں "ولایت المظالم" یا "دار العدل" کے نام سے جانی جاتی تھی، جہاں حکومتی جبر کے خلاف عام آدمی کو داد رسی ملتی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے عدل کا وہ معیار قائم فرمایا جو قیامت تک کے لیے مشعلِ راہ ہے:
"خدا کی قسم! اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔" (صحیح بخاری)
تاریخی طور پر حضرت علیؓ کا اپنی زرہ کے مقدمے میں ایک عام شہری کے خلاف قاضی کی عدالت میں پیش ہونا اور ثبوت نہ ہونے پر اپنے خلاف فیصلہ قبول کرنا، اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ پاکستان کے موجودہ عدالتی نظام میں تاخیر اور طاقتور کا اثر و رسوخ دراصل ان بنیادوں سے انحراف ہے جن پر یہ ملک تعمیر ہونا تھا۔
5. چوتھا اہم نکتہ: معاشی انصاف اور 'بیت المال' کا کردار
اسلامی معاشی نظام کا مقصد دولت کے ارتکاز کو روکنا اور اسے سماج کے محروم طبقات تک پہنچانا ہے۔ جہاں "ربا" (سود) کی ممانعت استحصال کو ختم کرتی ہے، وہاں "بیت المال" ایک سماجی تحفظ کے ادارے (Social Safety Net) کے طور پر کام کرتا ہے۔
سورس کنٹیکسٹ کی روشنی میں، حضرت عمرؓ کے دور میں بیت المال محض ایک سرکاری خزانہ نہیں تھا بلکہ یہ بزرگوں کے لیے پنشن اور غریبوں کے لیے وظائف (Stipends) فراہم کرنے کا ذمہ دار تھا۔ آج پاکستان کی معیشت جس سودی شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے، اس کا حل وہی "رسک شیئرنگ" اور زکوٰۃ کا شفاف نظام ہے جو دولت کو چند ہاتھوں میں گردش کرنے سے روکتا ہے۔ جب تک ہم 'بیت المال' جیسے اداروں کو جدید خطوط پر فعال نہیں کریں گے، معاشی انصاف محض ایک خواب ہی رہے گا۔
6. پانچواں اہم نکتہ: محاسبہ اور 'حسبہ' کا نظام
اسلامی ریاست میں احتساب یا "محاسبہ" کا تصور نہایت سخت ہے۔ حضرت عمرؓ کے دور میں "مراقبہ" (Monitoring) کا ایک ایسا نظام قائم تھا جس کے تحت حکام کے اثاثوں کی کڑی نگرانی کی جاتی تھی۔ اس دور میں 'حسبہ' کا نظام بازاروں کی نگرانی، ناپ تول کی درستی اور عوامی اخلاقیات کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا تھا، جہاں "محتسب" (Ombudsman) حکومتی اہلکاروں کی بدعنوانی پر بھی نظر رکھتا تھا۔
آج 'اسلامی احتسابی جماعت' جیسی تحریکیں معاشرے میں اسی "حسبہ" اور "مراقبہ" کے نظام کو زندہ کرنے کی دعوت دے رہی ہیں۔ تجزیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو معاشرے کی اصلاح کے لیے ایک ایسی منظم قوت کی ضرورت ہے جو امانت اور دیانت کے اسلامی معیار کو اقتدار کے ایوانوں میں نافذ کر سکے۔ احتساب صرف نچلے طبقے کا نہیں، بلکہ 'اہلِ حل و عقد' اور حکمرانوں کا بھی ہونا ضروری ہے، کیونکہ اسلام میں قیادت ایک بوجھ ہے، ذاتی جاہ و حشمت کا ذریعہ نہیں۔
7. اختتامیہ: ایک فکر انگیز موڑ
خلاصہِ کلام یہ ہے کہ پاکستان کا نظریاتی سفر حاکمیتِ الہٰی، نظامِ شوریٰ اور بے لاگ عدل و احتساب کی منزل کی طرف تھا۔ ہم نے ادارہ جاتی ڈھانچے تو مغربی طرز کے اپنا لیے، لیکن ان میں وہ اسلامی روح نہ پھونک سکے جو حکمران کو اللہ اور عوام کے سامنے جوابدہ بناتی ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
کوئی سوال ہو تو بلا جھجک کریں ۔۔