اشاعتیں

مئی, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اسلامی احتسابی جماعت کا دستور: کیا یہ جدید دور میں سماجی اصلاح کا نیا ماڈل ہے؟

اسلامی احتسابی جماعت کا دستور: کیا یہ جدید دور میں سماجی اصلاح کا نیا ماڈل ہے؟ آج کا دور اپنی تمام تر ڈیجیٹل ترقی کے باوجود اخلاقی انحطاط، سماجی بے راہ روی اور فکری پراگندگی کا شکار ہے۔ مادہ پرستی کی اس دوڑ میں انسانیت کی بنیادیں کھوکھلی ہو رہی ہیں اور محض انفرادی وعظ و نصیحت اس طوفان کے سامنے بند باندھنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ ایسے میں ایک منظم، تادیبی اور نظریاتی گروہ کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی جو معاشرے کی جڑوں میں موجود برائی کا قلع قمع کر سکے۔ اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے محمد جنید احتسابی نے "اسلامی احتسابی جماعت" کی بنیاد رکھی ہے۔ یہ کوئی روایتی مذہبی گروہ نہیں، بلکہ ایک ایسا ڈھانچہ ہے جو "عملی احتساب" کو سماجی اصلاح کا بنیادی ستون قرار دیتا ہے۔ ایک تجزیہ نگار کی حیثیت سے جب ہم اس جماعت کے دستور کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں مروجہ تنظیمی ڈھانچوں سے ہٹ کر ایک منفرد اور کڑا ماڈل نظر آتا ہے۔ 1۔ مشن کی ہمہ گیری: امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور اتحادِ امت جماعت کا نصب العین محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی و فکری منشور ہے۔ اس کے لوگو میں درج "اتح...

تعارفِ اسلامی احتسابی جماعت: ایک منظم سماجی و دینی تحریک کا آغاز

تصویر
تعارفِ اسلامی احتسابی جماعت: ایک منظم سماجی و دینی تحریک کا آغاز 1. تمہید: وقت کی ضرورت اور جماعت کا قیام تاریخ کے اس نازک موڑ پر جہاں اخلاقی انحطاط، ریاستی عدم استحکام اور معاشرتی اقدار کا بکھراؤ واضح ہے، 'اسلامی احتسابی جماعت' محض ایک روایتی گروہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک جامع آئینی متبادل کے طور پر ابھری ہے۔ 15 فروری 2025 کو بانی محمد جنید احتسابی کے زیرِ قیادت اس جماعت کا قیام اس تزویراتی ضرورت کا ثمر ہے جو 'احتساب' اور 'اصلاح' کو اپنی جدوجہد کا محور بناتی ہے۔ یہ جماعت کسی جذباتی لہر کا نام نہیں، بلکہ 66 دفعات پر مشتمل ایک مضبوط اور مفصل دستور کے تحت قائم ایک قانونی و تنظیمی ڈھانچہ ہے، جو معاشرے کے ہر طبقے کو نظم و ضبط اور نظریاتی پختگی کی دعوت دیتا ہے۔ یہ فکری گہرائی اور تنظیمی پختگی ہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک صالح معاشرے کی عمارت استوار کی جا سکتی ہے۔ 2. نظریہ اور نصب العین: امر بالمعروف و نہی عن المنکر جماعت کا نظریہ اس آفاقی اصول پر قائم ہے کہ کسی بھی معاشرے کی بقا "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" (نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے) میں مضمر ہے۔ دس...

اسلامی سیاست کے وہ ۵ حقائق جو آپ کو حیران کر دیں گے: ایک فکری مطالعہ

اسلامی سیاست کے وہ ۵ حقائق جو آپ کو حیران کر دیں گے: ایک فکری مطالعہ عام طور پر جب ہم اسلام کا ذکر کرتے ہیں، تو ذہن فوری طور پر عبادات، اخلاقیات اور انفرادی روحانیت کی طرف جاتا ہے۔ بہت سے لوگ اسلام کو محض چند مذہبی رسومات کا مجموعہ سمجھتے ہیں، لیکن ایک سیاسی مورخ کی نظر سے دیکھا جائے تو اسلام تاریخِ عالم میں ایک نہایت پیچیدہ اور جدید انتظامی نظام کے طور پر ابھرا۔ آج ہم ان پانچ "فراموش کردہ چابیوں" کا ذکر کریں گے جو اسلامی نظامِ حکومت کے اصل جوہر کو سمجھنے میں مدد دیں گی اور یہ ثابت کریں گی کہ اسلام کی سیاسی اساس محض عقیدت نہیں بلکہ ایک ٹھوس فکری ضرورت پر مبنی تھی۔ ۱۔ ریاست کی ہنگامی بنیاد: قبائلی عصبیت کا متبادل اسلام کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ یہ اپنی ابتدا ہی میں ایک ریاست کی شکل میں سامنے آیا۔ عیسائیت کے برعکس، جسے شہنشاہ قسطنطین کے دور تک ایک اقلیتی اور زیرِ عتاب تحریک کے طور پر رہنا پڑا، اسلام نے مدینہ ہجرت کے فوراً بعد ایک سیاسی وجود حاصل کر لیا۔ ماہرین (جیسے ڈینیل پائپس) کے مطابق یہ کوئی اتفاق نہیں تھا بلکہ ایک ضرورت تھی۔ مدینہ ایک "بے ریاست" (Stateless) خط...