اسلامی احتسابی جماعت کا دستور: کیا یہ جدید دور میں سماجی اصلاح کا نیا ماڈل ہے؟
اسلامی احتسابی جماعت کا دستور: کیا یہ جدید دور میں سماجی اصلاح کا نیا ماڈل ہے؟ آج کا دور اپنی تمام تر ڈیجیٹل ترقی کے باوجود اخلاقی انحطاط، سماجی بے راہ روی اور فکری پراگندگی کا شکار ہے۔ مادہ پرستی کی اس دوڑ میں انسانیت کی بنیادیں کھوکھلی ہو رہی ہیں اور محض انفرادی وعظ و نصیحت اس طوفان کے سامنے بند باندھنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ ایسے میں ایک منظم، تادیبی اور نظریاتی گروہ کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی جو معاشرے کی جڑوں میں موجود برائی کا قلع قمع کر سکے۔ اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے محمد جنید احتسابی نے "اسلامی احتسابی جماعت" کی بنیاد رکھی ہے۔ یہ کوئی روایتی مذہبی گروہ نہیں، بلکہ ایک ایسا ڈھانچہ ہے جو "عملی احتساب" کو سماجی اصلاح کا بنیادی ستون قرار دیتا ہے۔ ایک تجزیہ نگار کی حیثیت سے جب ہم اس جماعت کے دستور کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں مروجہ تنظیمی ڈھانچوں سے ہٹ کر ایک منفرد اور کڑا ماڈل نظر آتا ہے۔ 1۔ مشن کی ہمہ گیری: امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور اتحادِ امت جماعت کا نصب العین محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی و فکری منشور ہے۔ اس کے لوگو میں درج "اتح...