اشاعتیں

اپریل, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اسلامی احتسابی جماعت: وہ 5 حیرت انگیز نکات جو اس کے دستور کو منفرد بناتے ہیں

اسلامی احتسابی جماعت: وہ 5 حیرت انگیز نکات جو اس کے دستور کو منفرد بناتے ہیں 1. تعارف: کیا ایک تنظیم محض نام سے پہچانی جاتی ہے؟ کسی بھی نظریاتی تحریک کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ اس کے بلند و بانگ نعروں سے نہیں، بلکہ اس کے "دستوری ڈی این اے" (Constitutional DNA) سے ہوتا ہے۔ دستور ہی وہ بنیاد ہے جو کسی جماعت کو محض ایک ہجوم کے بجائے ایک منظم قوت میں تبدیل کرتی ہے۔ "اسلامی احتسابی جماعت" کا منشور محض خشک قانونی ضوابط کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا نظامِ فکر ہے جو مروجہ سیاسی کلچر کو یکسر چیلنج کرتا ہے۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ تمام تنظیمیں ایک ہی طرح کام کرتی ہیں، تو اس جماعت کے دستور میں چھپے یہ پانچ نکات آپ کو حیران کر دیں گے۔ 2. عہدے کی خواہش؟ تو پھر آپ نااہل ہیں! جدید دور کی سیاست میں عہدہ حاصل کرنا کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن اسلامی احتسابی جماعت نے اس تصور کو الٹ دیا ہے۔ دستور کی دفعہ 9 اور 22 کے تحت، یہاں قیادت کا معیار "نفس کی نفی" پر رکھا گیا ہے۔ مروجہ نظام میں جہاں ہر کوئی اقتدار کی دوڑ میں شامل ہے، اس جماعت میں وہ شخص امیر یا شوریٰ کا رکن ...

اسلامی احتسابی جماعت: امت کی اصلاح اور حقیقی انقلاب کا ایک منفرد روڈ میپ

اسلامی احتسابی جماعت: امت کی اصلاح اور حقیقی انقلاب کا ایک منفرد روڈ میپ 1. تعارف: کیا ہم فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر معاشرتی اصلاح کر سکتے ہیں؟ آج امتِ مسلمہ جس المناک فکری انتشار اور زبوں حالی کا شکار ہے، وہ کسی دردِ دل رکھنے والے مسلمان سے پوشیدہ نہیں۔ ہم ایک ایسے دورِ فتن میں جی رہے ہیں جہاں طاغوتی نظاموں کی حاکمیت نے ہماری اجتماعی روح کو کچل کر رکھ دیا ہے اور فرقہ واریت کے زہر نے جسدِ ملی کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے۔ ہر گروہ اپنے حصار میں مقید ہے، جبکہ معاشرہ مجموعی طور پر اخلاقی پستی اور بے راہ روی کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ کیا ہی ستم ظریفی ہے کہ خیرِ امت کہلانے والے خود شر کی یلغار کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ ایسے میں روح کو تڑپا دینے والا سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ایسی تحریک ممکن ہے جو مسلکی عصبیتوں اور گروہی مفادات کے بتوں کو پاش پاش کر کے صرف "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" کو اپنا واحد مقصود بنا لے؟ موجودہ دور میں محض روایتی وعظ و نصیحت کے تریاق سے اس کینسر کا علاج ممکن نہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ایک ایسی منظم قوت میدان میں آئے جو محض قول نہیں بلکہ عملی احتساب کے ذریعے معاشرتی ڈ...