اسلامی احتسابی جماعت: امت کی اصلاح اور حقیقی انقلاب کا ایک منفرد روڈ میپ
اسلامی احتسابی جماعت: امت کی اصلاح اور حقیقی انقلاب کا ایک منفرد روڈ میپ
1. تعارف: کیا ہم فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر معاشرتی اصلاح کر سکتے ہیں؟
آج امتِ مسلمہ جس المناک فکری انتشار اور زبوں حالی کا شکار ہے، وہ کسی دردِ دل رکھنے والے مسلمان سے پوشیدہ نہیں۔ ہم ایک ایسے دورِ فتن میں جی رہے ہیں جہاں طاغوتی نظاموں کی حاکمیت نے ہماری اجتماعی روح کو کچل کر رکھ دیا ہے اور فرقہ واریت کے زہر نے جسدِ ملی کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے۔ ہر گروہ اپنے حصار میں مقید ہے، جبکہ معاشرہ مجموعی طور پر اخلاقی پستی اور بے راہ روی کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ کیا ہی ستم ظریفی ہے کہ خیرِ امت کہلانے والے خود شر کی یلغار کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ ایسے میں روح کو تڑپا دینے والا سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ایسی تحریک ممکن ہے جو مسلکی عصبیتوں اور گروہی مفادات کے بتوں کو پاش پاش کر کے صرف "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" کو اپنا واحد مقصود بنا لے؟ موجودہ دور میں محض روایتی وعظ و نصیحت کے تریاق سے اس کینسر کا علاج ممکن نہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ایک ایسی منظم قوت میدان میں آئے جو محض قول نہیں بلکہ عملی احتساب کے ذریعے معاشرتی ڈھانچے کی سرجری کرے۔ اسلامی احتسابی جماعت اسی انقلابی پکار کا جواب اور حاکمیتِ الٰہی کے قیام کا ایک روشن روڈ میپ ہے۔
2. حیرت انگیز نکتہ نمبر 1: موجودہ دینی تحریکوں کے درمیان "تیسرا راستہ"
عصرِ حاضر کی دینی بساط پر نظر ڈالی جائے تو اسلامی تحریکیں عموماً تین انتہاؤں میں منقسم نظر آتی ہیں۔ پہلی وہ جو صرف نیکی کی دعوت پر اکتفا کرتی ہیں اور برائی کے خلاف عملی مزاحمت کو شجرِ ممنوعہ سمجھتی ہیں۔ دوسری وہ جو دعوت اور احتساب کا علم تو بلند کرتی ہیں لیکن ان کی جڑیں کسی مخصوص فقہی یا مسلکی تعصب میں پیوست ہیں۔ تیسری وہ جو نیکی و بدی کی بات تو کرتی ہیں مگر ان کے پاس "رفعِ اختلاف" اور "اتحادِ بین المسلمین" کا کوئی جامع ایجنڈا موجود نہیں۔
تجزیہ: اسلامی احتسابی جماعت ان روایتی رویوں کے درمیان ایک "تیسرا راستہ" پیش کرتی ہے۔ اس کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ کسی مخصوص فرقے کی وکالت کے بجائے تمام مسلمانوں کو ایک الٰہی منشور پر متحد کرنے کی داعی ہے۔ اس کا وژن واضح ہے: یہ نہ صرف نیکی کا حکم دیتی ہے بلکہ برائی کو ہاتھ سے روکنے کی عملی استطاعت پیدا کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ یہ تحریک فرقہ وارانہ دیواروں کو گرا کر امت کو ایک ایسی "بنیان مرصوص" (سیسہ پلائی دیوار) میں ڈھالنا چاہتی ہے جس کا ہدف صرف مخلوقِ خدا کی اصلاح اور خالق کی رضا ہو۔
3. حیرت انگیز نکتہ نمبر 2: انقلابِ محمدی ﷺ بمقابلہ انقلابِ فرانس و روس
انسانی تاریخ نے بڑے انقلابات دیکھے ہیں، مگر وہ ہمیشہ ادھورے اور یک طرفہ ثابت ہوئے۔ 1789 کا فرانسیسی انقلاب صرف سیاسی بادشاہت کو بدل سکا مگر انسان کی روحانی پیاس نہ بجھا سکا۔ 1917 کا روسی انقلاب معاشی ڈھانچے کی تبدیلی تک محدود رہا لیکن انسانی اخلاقیات کو تیا پانچہ کر گیا۔ اس کے برعکس، تاجدارِ کائنات ﷺ کا برپا کردہ انقلاب تاریخِ انسانی کا واحد "ہمہ گیر انقلاب" تھا جس نے انسانی زندگی کے تمام چھ شعبوں کو یکسر بدل دیا۔
* عقائد: شرک کے اندھیروں سے نکال کر توحید کی روشنی دی۔
* عبادات: رسوم کی جگہ روحِ بندگی پیدا کی۔
* سماج: غلامی اور نسلی امتیاز کا خاتمہ کر کے مساواتِ انسانی قائم کی۔
* معیشت: سود کی لعنت مٹا کر زکوٰۃ و انفاق کا نظام دیا۔
* سیاست: شخصی آمریت کی جگہ خلافت اور عدلِ الٰہی کو رائج کیا۔
* اخلاقیات: درندگی کو ایثار و دیانت سے بدل دیا۔
"نبی کریم ﷺ کا انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسا مکمل نظامِ زندگی تھا جس نے صرف 22 سال کے قلیل عرصے میں انفرادی شخصیت سے لے کر عالمی سیاست تک ہر شے کو وحیِ الٰہی کے تابع کر دیا۔"
4. حیرت انگیز نکتہ نمبر 3: 2009 سے 2017 تک کا نامیاتی ارتقاء (D&F سے اسلامی احتسابی جماعت تک)
اس جماعت کی تاریخ محض ایک تنظیم کا قیام نہیں بلکہ ایک مخلص انسانی تڑپ کا ارتقائی سفر ہے۔ اس کا بیج 4 مئی 2009 کو بانیِ جماعت محمد جنید احتسابی نے اپنے پہلے رفیقِ کار سراج حیدر کے ساتھ مل کر بویا۔ ابتدا میں یہ ایک خالص انسانی جذبہ تھا جس کا مقصد معاشرتی برائیوں کا خاتمہ تھا۔ 2014 میں اسے "D&F" (Don and Fair) کا نام دیا گیا، جو 2016 میں "AMF" میں تبدیل ہوا۔ لیکن منزلِ مقصود ابھی دور تھی۔ 2017 میں جب بانیِ جماعت نے مدرسے میں زیرِ تعلیم ہونے کے دوران سورہ آل عمران کی آیت 104 کی روح کو پایا، تو اس تحریک کو اپنا قرآنی عنوان "اسلامی احتسابی جماعت" مل گیا۔
تجزیہ: یہ سفر ظاہر کرتا ہے کہ جب ایک مخلصانہ انسانی کوشش قرآنی ہدایت سے ٹکراتی ہے تو وہ ایک منظم الٰہی مشن میں ڈھل جاتی ہے۔ یہ ارتقاء ثابت کرتا ہے کہ تحریک کے جگر میں شروع سے ہی برائی کے خلاف عملی جدوجہد کی تڑپ موجود تھی، جسے بعد ازاں وحی کے نور نے ایک مستحکم وژن بخش دیا۔
5. حیرت انگیز نکتہ نمبر 4: سماجی تبدیلی کے 6 سائنسی مراحل (منہاجِ نبوی ﷺ)
اسلامی احتسابی جماعت کا لائحہ عمل کسی جذباتی ابال کا نتیجہ نہیں بلکہ سیرتِ نبوی ﷺ سے اخذ کردہ ایک منظم سائنسی طریقہ کار ہے:
1. انقلابی نظریہ کی اشاعت: لوگوں کے فکر و شعور کو توحید اور حاکمیتِ الٰہی سے منور کرنا۔
2. تنظیم: ہم خیال افراد کو ایک سیسہ پلائی دیوار (بنیان مرصوص) میں منظم کرنا۔
3. تربیت: کارکنوں کی فکری، اخلاقی اور عملی تیاری۔
4. صبر: آزمائشوں کے دور میں تشدد سے بچ کر عوامی ہمدردی حاصل کرنا اور ثابت قدم رہنا۔
5. اقدام: باطل نظام کو شعوری طور پر چیلنج کرنا اور سماجی بائیکاٹ جیسے اقدامات۔
6. مسلح تصادم: جب ظلم انتہا کو پہنچ جائے اور دفاع ناگزیر ہو جائے۔
تجزیہ: اس ترتیب میں "صبر" کا مرحلہ انتہائی کلیدی ہے۔ یہ محض خاموشی نہیں بلکہ ایک اسٹرٹیجک حکمتِ عملی ہے تاکہ تحریک تشدد کے الزامات سے بچ کر عوامی سطح پر اپنی جڑیں مضبوط کر سکے اور اقدام سے پہلے کارکنوں کے اندر فولادی استقامت پیدا ہو جائے۔
6. حیرت انگیز نکتہ نمبر 5: ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے کا بے باک اعتراف
کسی بھی تحریک کی اخلاقی طاقت کا اندازہ اس کی خود احتسابی سے ہوتا ہے۔ بانیِ جماعت نے ماضی کی "9 بڑی خامیوں" (عبرت) کا نہایت بے باکی سے اعتراف کیا، جن میں سب سے بڑی غلطی "نابالغ اور غیر سنجیدہ افراد کی بھرتی" اور "جدید ذرائع مواصلات کا عدم استعمال" تھی۔ مقصد کی وضاحت میں کمی اور نظم و ضبط کا فقدان وہ رکاوٹیں تھیں جنہوں نے کام کی رفتار کو سست رکھا۔
تجزیہ: ایک نظریاتی تحریک کے لیے اپنی کوتاہیوں کو سرِ عام تسلیم کرنا کمزوری نہیں بلکہ اس کی اخلاقی فتح ہے۔ "مؤمن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا" کے اصول پر عمل کرتے ہوئے اب صرف بالغ، سنجیدہ اور تعلیم یافتہ افراد کو شامل کرنا اور ٹیکنالوجی کو دعوت کے لیے استعمال کرنا اس تحریک کی نئی اور مضبوط بنیاد بن چکا ہے۔
7. حیرت انگیز نکتہ نمبر 6: انفرادی تزکیہ نفس سے عالمی انقلاب تک کا سفر
جماعت کے نزدیک کارکن صرف ایک نمبر نہیں بلکہ ایک "ربانی سپاہی" ہے۔ اس کے لیے "تزکیہ و تربیتِ محمدی کے عناصرِ ثلاثہ" کو بنیاد بنایا گیا ہے:
* تلاوتِ قرآن و اقامتِ صلاۃ: ذہنی اور روحانی ارتقاء کے لیے۔
* نفس کی مخالفت اور ریاضت: خواہشاتِ نفسانی کو مغلوب کرنا اور "قیام اللیل" (رات کی عبادت) کے ذریعے باطنی قوت حاصل کرنا۔
* مجاہدانہ تربیت: مشکلات اور ملامت کرنے والوں کی پرواہ کیے بغیر میدانِ عمل میں ثابت قدم رہنا۔
تجزیہ: جب تک ایک کارکن اپنے باطن کے بتوں کو نہیں گراتا، وہ معاشرے کے بتوں کے سامنے کھڑا نہیں ہو سکتا۔ انفرادی طہارت ہی وہ ایندھن ہے جو عالمی انقلاب کی مشینری کو چلاتا ہے۔
8. نتیجہ: ایک روشن مستقبل اور ہمارا کردار
اسلامی احتسابی جماعت محض ایک نئی تنظیم کا اضافہ نہیں، بلکہ یہ امت کے بکھرے ہوئے موتیوں کو ایک لڑی میں پرونے کی سنجیدہ کوشش ہے۔ یہ "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" کے اس فراموش شدہ فریضے کی بحالی ہے جس پر امت کی فلاح کا انحصار ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی اناؤں، مسلکی جھگڑوں اور انفرادی مصلحتوں کے خول سے باہر نکلیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
کوئی سوال ہو تو بلا جھجک کریں ۔۔