اسلامی طرزِ حکمرانی: الماوردی کے نظریات اور جدید دور کے لیے ۵ اہم ترین اسباق
اسلامی طرزِ حکمرانی: الماوردی کے نظریات اور جدید دور کے لیے ۵ اہم ترین اسباق
جدید دنیا میں جب ریاستیں سیاسی عدم استحکام، کرپشن اور انتظامی بحرانوں کی زد میں ہیں، ایک پائیدار نظامِ حکومت کی تلاش تیز تر ہو گئی ہے۔ اس فکری سفر میں جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو امام الماوردی (وفات 1058ء) کی شخصیت ایک قد آور ماہرِ ریاست، سفارت کار اور منصفِ اعلیٰ (قاضی القضاۃ) کے طور پر ابھرتی ہے۔ ان کی شہرہ آفاق تصنیف "الاحکام السلطانیہ" محض کوئی خیالی نظریہ نہیں، بلکہ ان کے گہرے عملی تجربات کا نچوڑ ہے۔
الماوردی نے یہ شاہکار اس وقت تحریر کیا جب خلافتِ عباسیہ کی سیاسی گرفت کمزور پڑ رہی تھی اور آلِ بویہ (Buyids) اور سلجوقی سلاطین کے غلبے نے خلیفہ کے انتظامی اختیارات کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ معروف محقق این لیمبٹن (Ann Lambton) کے مطابق، الماوردی کا مقصد ان غاصب قوتوں کے سامنے خلافت کے مقام کو مستحکم کرنا اور ریاست کو دوبارہ اسلامی اصولوں پر کھڑا کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بیسویں صدی کے مفکرین بھی اسے جدید اسلامی ریاست کے لیے ایک بنیادی ریفرنس کے طور پر دیکھتے ہیں۔
ذیل میں الماوردی کے افکار کی روشنی میں ۵ کلیدی اسباق پیش کیے جا رہے ہیں:
۱۔ ڈھانچہ بدل سکتا ہے، لیکن اصول ابدی ہیں (روح بمقابلہ ڈھانچہ)
اسلامی نظامِ حکمرانی کی سب سے بڑی خوبی اس کی لچک اور وسعت ہے۔ ہاشم کمالی اور مفتی تقی عثمانی جیسے جدید مفکرین الماوردی کے افکار کی تشریح کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ اسلام نے حکومت کے تفصیلی ادارے متعین نہیں کیے، بلکہ چند ابدی اصول دیے ہیں۔
ہاشم کمالی کے مطابق، عدل اور شوریٰ جیسے بنیادی اصول ریاست کا وہ "ابدی ڈھانچہ" (Skeleton) ہیں جو کبھی نہیں بدلتا، جبکہ وزارتوں کی تقسیم اور انتظامی طریقے وہ "گوشت پوست" ہیں جو وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ غور کریں تو فرعونی دور کے ہامان (وزیر) اور قارون (خزانچی) سے لے کر خلافتِ راشدہ اور آج کی جدید وزارتوں تک، حکمرانی کا بنیادی ڈھانچہ (حکمران، مشیر، فوج، عدلیہ) وہی رہا ہے۔ اصل امتیاز اس "روح" کا ہے جو ان اداروں کو چلاتی ہے، اور اسلامی ریاست میں وہ روح "شریعت" ہے۔
۲۔ خلیفہ اور بادشاہ کے درمیان فرق: صرف انصاف
الماوردی کے نزدیک اقتدار کا اصل جوہر طاقت نہیں بلکہ انصاف کا قیام ہے۔ خلیفہ اور بادشاہ کے درمیان فرق کو واضح کرنے کے لیے حضرت عمر فاروقؓ کا وہ تاریخی مکالمہ ایک روشن مثال ہے جس میں آپؓ نے پوچھا کہ کیا میں خلیفہ ہوں یا بادشاہ؟ جواب ملا:
"خلیفہ صرف وہی لیتا ہے جو حق ہے اور اسے صحیح طریقے سے استعمال کرتا ہے... جبکہ بادشاہ لوگوں کے ساتھ ناانصافی کرتا ہے، وہ ایک سے چھین کر دوسرے کو نوازتا ہے۔" (حضرت عمر فاروقؓ)
یہ اقتباس واضح کرتا ہے کہ اگرچہ خلیفہ اور بادشاہ دونوں کے پاس مکمل انتظامی اختیارات ہوتے ہیں، لیکن ان کا "بنیادی تصور" (Basic View) الگ ہوتا ہے۔ بادشاہت میں شخصی مرضی اور ناانصافی کا غلبہ ہوتا ہے، جبکہ خلافت میں حکمران اللہ کے قانون اور عوامی عدل کا پابند ہوتا ہے۔
۳۔ شوریٰ: ایک ادارہ نہیں، بلکہ ہر ادارے کی روح
الماوردی نے اپنی کتاب میں ریاست کے ۲۰ مخصوص وظائف کی فہرست دی ہے، جنہیں وہ فنی اصطلاح میں "الولایات الخاصہ" (Wilāyāt al-Khāssa) کہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فہرست میں "مجلسِ شوریٰ" کا نام ایک علیحدہ ادارے کے طور پر موجود نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شوریٰ (مشاورت) محض ایک شعبہ نہیں بلکہ پوری ریاست کی وہ روح ہے جو ہر ادارے کے پیچھے کارفرما ہونی چاہیے۔
حسن الترابی اور محمد الغزالی کے مطابق، شوریٰ کو نافذ کرنے کے طریقے تہذیب کے ارتقا کے ساتھ بدل سکتے ہیں۔ الماوردی نے خلیفہ کے مشیر (وزیر) کے لیے خلیفہ مامون الرشید کے اس معیار کو ذکر کیا ہے جو ایک "رازوں کے امین" (Guardian of Secrets) کی بہترین عکاسی کرتا ہے:
* وہ ایسا شخص ہو جس کے لیے ایک لمحہ کافی ہو اور ایک نظر ہی تمام اسرار و رموز سمجھنے کے لیے وافر ہو۔
* جس کی بردباری اسے خاموش رکھے اور علم اسے کلام کرنے پر اکسائے۔
* جو تجربہ کار اور رازوں کا امین ہو، اور اپنی فصاحت و بلاغت سے لوگوں کے دل جیت لے۔
۴۔ حکمران کی اصل جوابدہی: 'کھوئی ہوئی بھیڑ' کا تصور
اسلامی نظام میں 'محاسبہ' (Accountability) کا تصور کسی بھی سیکولر نظام سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ یہاں حکمران صرف عوام کو نہیں، بلکہ اللہ کے سامنے بھی جوابدہ ہے۔ حضرت عمرؓ کا یہ فرمان کہ "اگر فرات کے کنارے ایک بھیڑ بھی ضائع ہو جائے تو عمرؓ اس کا جوابدہ ہوگا،" حکمرانی کے اسی اخلاقی بوجھ کو ظاہر کرتا ہے۔
اسلامی ریاست میں حکمران کے اختیارات مطلق نہیں بلکہ مشروط ہوتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنے پہلے خطبے میں واضح فرمایا: "میری اطاعت کرو جب تک میں اللہ کی اطاعت کروں۔" یہ اصول طے کرتا ہے کہ اگر حکمران شریعت اور عوامی مفاد سے روگردانی کرے گا تو وہ اپنی اتھارٹی کھو دے گا۔
۵۔ نظریہ اور حقیقت کا ٹکراؤ: پاکستان کی مثال
جدید دور میں اسلامی اصولوں اور عملی حکمرانی کے درمیان ایک واضح خلیج نظر آتی ہے۔ پاکستان کی صورتحال میں ان خلاؤں کو پر کرنے کے لیے ماخذات (Source Context) کی روشنی میں درج ذیل "اسلامی حل" ناگزیر ہیں:
1. سیاسی خلا: میرٹ کے بجائے اقربا پروری کا خاتمہ کر کے شوریٰ کو ہر سطح پر ادارہ جاتی شکل دی جائے۔
2. معاشی خلا: سودی معیشت کے بجائے "نفع و نقصان کی شراکت" (Muqaradah/Musharakah) پر مبنی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے اور زکوٰۃ کے نظام کو ٹیکنالوجی کے ذریعے شفاف بنایا جائے۔
3. عدالتی خلا: محض سیاسی مداخلت کا خاتمہ کافی نہیں، بلکہ فوری انصاف (Adl) کی فراہمی کے لیے عدلیہ میں "ڈھانچہ جاتی اور ضابطہ جاتی اصلاحات" (Structural and Procedural Reforms) کی جائیں۔
خاتمہ: مستقبل کی جانب ایک نظر
امام الماوردی کے نظریات ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ریاست کو صرف نام سے "اسلامی" قرار دینا کافی نہیں، بلکہ اس کی جڑوں میں انصاف، مشاورت اور حقیقی جوابدہی کو شامل کرنا ضروری ہے۔ جدید ریاست کی کامیابی کا راز قدیم اصولوں کو جدید انتظامی ضرورتوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں پنہاں ہے۔
تاریخ محض پڑھنے کی کہانی نہیں، بلکہ نافذ کرنے کا سبق ہے۔ آخر میں ایک سوال ہم سب کے لیے: کیا ہم جدید ریاست کو محض نام سے نہیں بلکہ اس کی اصل 'روح' سے اسلامی بنانے کے لیے تیار ہیں؟
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
کوئی سوال ہو تو بلا جھجک کریں ۔۔