فلسطین: شرعی فریضہ اور امت کا اجتماعی فرض

فلسطین: شرعی فریضہ اور امت کا اجتماعی فرض
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مقدمہ:
فلسطین کی سرزمین پر جاری اسرائیلی مظالم نے ایک بار پھر عالمی سطح پر مسلمانوں کے دلوں کو زخمی کیا ہے۔ فلسطینی عوام کی بے گناہی اور ان کی نسل کشی کو دیکھ کر ہر مسلمان کے دل میں ایک تکلیف کا احساس اُٹھتا ہے۔ ان مظالم کے خلاف ہمیں ایک واضح دینی ہدایت ملتی ہے۔ اسلام نے ہمیں ظلم کے خلاف اُٹھنے اور مظلوموں کی مدد کرنے کا حکم دیا ہے۔ جب تک ہم اپنے مظلوم بھائیوں کی حمایت کے لیے عملی طور پر نہیں اُٹھیں گے، تب تک ہمارے ایمان میں تذبذب اور کمزوری رہے گی۔
قرآن و سنت کی روشنی میں فلسطین کے حوالے سے مسلمانوں کا فرض:
اللہ کا حکم:
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
> وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ
"تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے قتال نہیں کرتے؟"
(سورۃ النساء، آیت 75)
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں پر قتال فرض کیا ہے جو اللہ کی راہ میں اور مظلوموں کی حمایت میں اُٹھیں۔ فلسطینی عوام کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ہم اس فرض سے غافل ہو سکتے ہیں؟
نبی اکرم ﷺ کا فرمان:
حضرت نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
> مَنْ لَمْ يَهْتَمَّ بِأَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَلَيْسَ مِنْهُمْ
"جو شخص مسلمانوں کے امور کی پرواہ نہ کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔"
(صحیح مسلم)
یہ حدیث اس بات کو واضح کرتی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان کسی بھی قسم کا ظلم و جبر، ان کے لئے مشترک مسئلہ ہے اور اس پر خاموشی اختیار کرنا دین کے مطابق ایک سنگین جرم ہے۔ اس حدیث کا تقاضا ہے کہ ہم فلسطینی عوام کے لئے آواز اٹھائیں اور ان کی حمایت میں عملی قدم اُٹھائیں۔
بین الاقوامی اتحاد العلماء المسلمین کا فتویٰ:
4 اپریل 2025 کو بین الاقوامی اتحاد العلماء المسلمین (IUMS) نے ایک متفقہ فتویٰ جاری کیا، جس میں تمام مسلمانوں پر یہ فرض عین قرار دیا گیا کہ:
> "فلسطین میں جاری اسرائیلی مظالم کے خلاف مسلح جہاد، اب ہر مسلمان پر فرض عین ہو چکا ہے!"
اس فتویٰ میں واضح طور پر کہا گیا کہ مسلمان نہ صرف فلسطینیوں کی مالی، فوجی اور سیاسی مدد کریں، بلکہ ان کے حق میں عملی طور پر جہاد میں شریک ہوں۔ یہ فتویٰ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ ہم سب پر یہ دینی فرض ہے کہ ہم اپنے مظلوم بھائیوں کے لیے آواز اٹھائیں اور ان کی مدد کریں۔
جہاد کی اہمیت:
اسلام میں جہاد صرف جنگی جہاد نہیں بلکہ ہر وہ اقدام جس سے اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت ہو، اسے جہاد کہا جاتا ہے۔ فلسطین میں اسرائیل کی جارحیت کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ایک شرعی فرض ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے:
> الْمُجَاهِدُ مَن جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
"مُجاہد وہ ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے۔"
(صحیح بخاری)
اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جو شخص بھی ظلم کے خلاف اُٹھتا ہے اور اللہ کی رضا کی خاطر اس کے راستے میں جدوجہد کرتا ہے، وہ جہاد کر رہا ہے۔
فلسطین کا مسئلہ:
فلسطین میں اسرائیلی مظالم کوئی نئی بات نہیں ہے، مگر حالیہ برسوں میں ان مظالم میں مزید شدت آ گئی ہے۔ لاکھوں فلسطینی شہری بے گھر ہو چکے ہیں، ہزاروں افراد شہید ہو چکے ہیں اور پورے فلسطین میں بے پناہ ظلم ڈھایا جا رہا ہے۔ اس وقت فلسطین کے مظلوم عوام کو ہماری مدد کی سخت ضرورت ہے۔ ان کے خلاف ہونے والے ان جابرانہ اقدامات پر خاموشی اختیار کرنا ایک گناہ اور غفلت کی علامت ہے۔
اسلامی احتسابی جماعت کی ذمہ داری:
اسلامی احتسابی جماعت کے بانی اور اراکین کا یہ ایمان ہے کہ امت مسلمہ کو ایک ساتھ اٹھ کر ظلم کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے۔ ہم مسلمانوں کا فرض ہے کہ ہم اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کریں اور ان کے حق میں جہاد کی دعوت دیں۔
ہمارا یہ فرض ہے کہ:
ہم فلسطینیوں کے لیے مالی، فوجی، سیاسی اور ابلاغی مدد فراہم کریں۔
ہم فلسطین کے مسئلے پر آواز بلند کریں اور عالمی سطح پر اس کا حل نکالنے کی کوشش کریں۔
ہم مظلوموں کی حمایت میں اُٹھ کھڑے ہوں اور دشمن کی مخالفت کریں۔
دعوت شمولیت:
اسلامی احتسابی جماعت تمام مسلمانوں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اس نیک مقصد میں شریک ہوں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کو ادا کریں۔ یہ وقت ہے کہ ہم ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں، اور فلسطین کے مظلوموں کی حمایت میں آواز بلند کریں۔
رابطہ کریں:
0323-8295712 (واٹس ایپ)
#فلسطین_کی_پکار
#جہاد_فرض_ہوچکا
#اسلامی_احتسابی_جماعت
#امت_کی_آواز
اختتامیہ:
اسلامی احتسابی جماعت کی جانب سے یہ پیغام تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے لیے ہے کہ اس وقت فلسطین کے مظلوموں کی مدد کرنا صرف ہمارا دینی فریضہ ہی نہیں بلکہ امت مسلمہ کے ایک اہم اجتماعی عمل کی ضرورت ہے۔ یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں، بلکہ حرکت کرنے کا ہے۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہوں اور ظلم کے خلاف آواز بلند کریں۔ آمین۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
کوئی سوال ہو تو بلا جھجک کریں ۔۔