جماعت کا انقلابی نظریہ

اسلامی احتسابی جماعت کا انقلابی نظریہ 

 *انقلابی نظریہ* 


 *انقلاب کی تعریف* 


انقلاب برائے نظام معاشیات، سیاسیات اور سماجیات کا نام۔ حقیقی انقلاب تو صرف حضور اکرم ﷺ کا برپا ہوا انقلاب۔ دنیا میں جتنے انقلاب آج تک آئے۔ وہ تمام انقلاب کامل نہیں ہے۔ سوئے محمدی انقلاب۔

 دنیا میں تین انقلابات مشہور ہیں۔ 

اول۔۔ روسی انقلاب، دوم۔۔ فرانسی انقلاب، سوم۔۔ محمدی انقلاب 

روسی انقلاب میں صرف معاشی نظام بدلنا۔ اور فرانسی انقلاب میں صرف سیاسی نظام کی تبدیلی۔ مگر محمدی انقلاب میں تو ہر چیز بدل گئی۔ سیاسی نظام، معاشی نظام اور سماجی نظام ہر چیز کو تبدیل کیا گیا۔ اگر کوئی جماعت انقلاب برپا کرنا چاہے تو اس کے لیے انقلاب کا واحد ماخذ و منبع محمدی انقلاب۔


 *نظریہ کی تعریف* 

زندگی کے اہم معاملات کے بارے میں کسی بھی خطے کے لوگوں کے بارے میں سوچنا عام طور پر ایک دوسرے سے سمندر میں۔ آپ سوچ انہیں اچھی طرح سے دیکھتے ہیں۔ سوچ سمجھ کر ان لوگوں کا نظریہ یا آئیڈیالوجی کہلاتے ہیں۔

نظریہ انسانی عقائد اور افکار کا ایک بنیاد ایسا ہے جس پر کسی سیاسی، سیاسی اور معاشی نظام کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ نظریہ تاریخ میں لوگوں کے کسی مخصوص گروہ میں جانے والے اجتماعی شعور کی عکاسی کرتا ہے۔ کسی بھی جماعت کی شناخت اور شناخت ہوتی ہے اور اسے دوسری ممتاز سے ممتاز کرتا ہے۔ 

جو نظریہ کی تشکیل میں مدد کرتا ہے انہیں نظریہ کے مآخذ کہا جاتا ہے۔ نظریہ ایک دن میں نہیں بن جاتا۔ یہ نشو و نما اور ارتقاء کے عمل سے ہی کوئی شکل اختیار کرتا ہے۔ نظریہ نہ حکم کے مسلط کیا نظریہ نہیں ہے قانون کی طرح نظریہ نہیں ہے کہ سوال کیا ہے۔ اس کی قوم کسی پارٹی کی تاریخ، روایات، مزاج، جذبات، اور مزب و عقائد میں تلاش کی تلاش میں ہیں۔ آپ نظریہ کے مآخذ ہیں۔

ہر پارٹی نظریہ کا محتاج ہوتا ہے۔ پارٹی کو اپنے لیڈر کے لیے کچھ بنیادی اصول درکار ہیں۔ جن کی وہ حد تک کر سکتے ہیں اور ان کی روشنی میں اپنے مقاصد اور اہداف کا تعین کرتے ہوئے اپنے لیے آگے کی سمت اور طریقہ کار کو آگے بڑھاتے ہیں۔ یہ سمت اور طریقہ کار نظریہ فراہم کرتا ہے۔




 *توحید* 

توحید اسلام کا بنیادی عقیدہ اور نظریہ ہے۔ 

اس کو ماننے کے بعد انسان کی زندگی میں ایک انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔ توحید کے تین متظمین ہیں۔

اول۔۔ حاکمیت، دوم۔۔ امانت، سوم۔۔ مساوات 

حاکمیت سے مراد اللہ کی حکومت ہے۔ اس کے لیے انسانوں کو نظام الہیٰ کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے تمام رائے شماری معاملات ہو یا پھر اجتماعی معاملات ہوں۔ 

امانت مراد انسان کے پاس ہے جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا یہ اس کا حقیقی مالک نہیں ہے۔ بلکہ اس کے پاس اللہ کی امانت ہے۔ 

مساوات سے مراد تمام انسان ہیں کسی پر فضیلت نہیں۔ فضیلت کا معیار اور صرف تقویت۔

دنیا میں انسانوں کی وضع کردہ تمام نظام باطل ہے۔ جن کے تحت انسان زندگی بسر کر رہے ہیں تمام مسائل حل کر رہے ہیں۔ 

اس امر کی ضرورت ہے کہ تمام توحید کے ماننے والے ایک جماعت کی صورت میں منظم ہو اور اس کی جگہ نظام الہیٰ قائم کر کے انسانی وضع کردہ نظام کو نست و نابود کر دیں۔ جہاں توحید کے تقاضے ہو ۔







 *رسالت* 

اسلام کا دوسرا بنیادی عقیدہ رسالت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر بسنے والے انسانوں کی رہنمائی کے لیے اور ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام دنیا میں مبعوث کہا۔ ان سب کی بعثت کا بنیادی مقصد نظام الہیٰ تھا۔ تمام انبیاء کرام نے امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے نظام الہیٰ قائم کرنے کی کوشش کی۔ اور بعض انبیاء کرام کو اللہ تعالیٰ نے ملک کو اقتدار عطا کیا اور انسانوں کی رہنمائی کے لیے زمین پر نظام الہیٰ قائم کر کے دنیا کو دیکھا۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عظیم ریاست بنا کر دنیا کو بتایا کہ اصل نظام الہیٰ یہ ہوتا ہے۔ اور اس ریاست کا بنیادی نظریہ توحید تھا۔


 *احتساب* 

احترام سے مراد امر بالمعروف ونہی عن المنکر ہے۔ یہ دین اسلام ایک عظیم نظریہ ہے۔ جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا ۔سلسلہ نبی ﷺ کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ختم فرمایا تو اس کی امت سے مخاطب ہوا ۔ کہ

أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْم

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝

كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُلِه۞۔

ترجمہ : تم بہترین جماعت ہو لوگوں کے لیے نکلا تم نیکی کا حکم کرتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ 

حوالہ۔۔۔ القرآن کریم سورۃ آل عمران۔۔ آیت نمبر ۔۔ 110

اب احتساب کا نظریہ کا حامل امت محمدی عظیم ہے۔ اور اس کے لیے نکلا ہے۔ کہ وہ اس فریضے کو انجام دے ۔ اب یہ سوال ہے کہ اس فریضے کو انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر کس طرح انجام دینا؟ اور کیا ہر فرقے کا ایک الگ الگ الگ انتخاب جو اپنے فرق کے ساتھ خاص ہو؟ اس جماعت کی صورت کیا؟ ان سب سوالوں کا جواب اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کہا ہے کہ 

أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْم

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝

‏ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًاۚ وَكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاۡنۡکُمۡ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡتُمۡ عَلٰى كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ۞ ۔

وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَمُنْكَرِ الْمُفْلِحُونَ۞

وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ تَفَرَّقُوۡا وَاخۡتَلَفُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡبَيِّنٰتُ‌ؕ وَاُولٰٓٓاَبَهُمٌ عَظِيۡمٌۙ ۞ ۔

ترجمہ : اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے گڑو اور تفرقہ متوجہ کرو اور اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم (ایک دوسرے کے) دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کی اور تمہارے نشان کی نعمت کے لیے تمہارے بھائی بھائی اور تم (اپنے بھائی) کو آگ لگنے کے لیے تیار کر رہے تھے (اللہ سے) پھر اس نے بیان کیا۔ .

اور ضرور تم میں ایک دوسری جماعت چاہو۔ جو نیکی کی دعوت دے اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے اور قوم حقیقی فلاح و بہبود والا۔

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہونے والے فرقوں میں بٹ گئے تھے اور جب ان کے پاس واضح نشانیاں آچکیں تو اس کے بعد بھی اختلاف کرنے اور انہی لوگوں کے لیے سخت عذاب۔ 

حوالہ۔۔۔ القرآن کریم سورۃ۔۔ آل عمران آیت نمبر ۔ 103 تا 105 

اب ان ہدایات کے پیش نظر ایک عالمی اسلامی تنظیم قائم ناگزیر ہے۔ جس کا مقصد رفع اختلاف، ردعمل اور اتحاد بین المسلمین ہو۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج جو اسلامی تنظیمیں بھی کام کر رہی ہیں وہ سب اپنے فرقوں کے ساتھ مخصوص ہیں۔ 

اس امر کی ضرورت ہے کہ ایک عالمی اسلامی تنظیم قائم کی جائے جو کسی فرقے کے ساتھ مخصوص نہ ہو۔ اسی نظریہ کو لے کر اسلامی احتسابی جماعت وجود میں آئی ہے۔ ہمارے ساتھ اس عظیم نظریہ کو دنیا کے کونے کونے میں بتائیں۔ اور سسٹم کے ذریعے نظام الہیٰ قائم کریں۔





تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

دعوت عام

اسلامی سیاست کے وہ ۵ حقائق جو آپ کو حیران کر دیں گے: ایک فکری مطالعہ