دستور اسلامی احتسابی جماعت



دستورِ اسلامی احتسابی جماعت

 


شناخت نامہ

نام کتابچہ : دستورِ اسلامی احتسابی جماعت 

مصنف : محمد جنید احتسابی 

فون نمبر : 03238295712
Email : iijislamiihtisabijamaat@gmail.com
Website : https://islami-ihtisabi-jamaat.blogspot.com

کل دفعات : 66

تاریخ اجراء : 2/15/2025

دیباچہ


دستور دراصل کسی جماعت کا بنیادی قانون ہوتا ہے، جو اس کے طرزِ جماعت، عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کی ہیئت، تشکیل اور اختیارات کو واضح کرتا ہے۔ اس میں امیر جماعت اور دیگر امراء کے فرائض و اختیارات، مجالس جماعت کی حیثیت، معیاد، تقرر اور دیگر ضروری پہلوؤں کو تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں، اراکین کے حقوق و واجبات کا تعین بھی دستور کا اہم حصہ ہوتا ہے۔

اسلامی احتسابی جماعت ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، اس لیے اس کے دستور کو مختصر اور بنیادی نکات تک محدود رکھا گیا ہے۔ تاہم، ان شاء اللہ، جیسے جیسے جماعت کی تنظیمی حیثیت مضبوط ہوگی، اس دستور کو مزید وسعت اور تفصیل کے ساتھ مرتب کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

بانی جماعت: محمد جنید احتسابی

نوٹ:

میں نے اپنی بساط کے مطابق اس دستور کو حتی الامکان درست اور جامع بنانے کی کوشش کی ہے، لیکن اگر اس میں کسی قسم کی کوئی غلطی یا کوتاہی رہ گئی ہو تو برائے کرم مطلع فرمائیں، تاکہ آئندہ ایڈیشن میں اصلاح کی جا سکے۔ آپ کی قیمتی آراء اور مفید مشورے اس دستاویز کو مزید بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔

آپ کی دعاؤں اور رہنمائی کا طلبگار،
محمد جنید احتسابی

حصہ اول: مبادیات


یہ حصہ جماعت کی بنیادی اور ابتدائی ضروریات پر مشتمل ہے۔

دفعہ 1: جماعت کا نام

جماعت کا نام "اسلامی احتسابی جماعت" ہوگا۔

دفعہ 2: جماعت کا نظریہ

جماعت کا نظریہ کتابچہ "انقلابی نظریہ" میں بیان کردہ اصولوں کے مطابق ہوگا، لہٰذا وہی جماعت کا بنیادی نظریہ تسلیم کیا جائے گا۔

دفعہ 3: جماعت کا مقصد و نصب العین

جماعت کے مقاصد اور نصب العین کتابچہ "مقاصد" میں درج ہیں، چنانچہ وہی جماعت کا حتمی مقصد اور نصب العین ہوگا۔

دفعہ 4: جماعت کا لائحہ عمل

جماعت کا لائحہ عمل "منہاج نبویﷺ" کے مطابق ہوگا، جو کتابچہ "لائحہ عمل" میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ لہٰذا وہی جماعت کا عملی طریقہ کار ہوگا۔

دفعہ 5: شرائطِ رکنیت

جماعت میں شمولیت کے لیے درج ذیل شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا:

1. صحیح مسلم ہونا – صحیح مسلم کی وضاحت توضیحات میں موجود ہے۔


2. بالغ و عاقل ہونا – یعنی سمجھدار اور ذمہ داری کا احساس رکھنے والا فرد ہو۔


3. آزاد ہونا – جماعت میں شمولیت کسی جبر یا دباؤ کے تحت نہ ہو، بلکہ امیدوار اپنی آزاد مرضی سے شامل ہو۔


4. جسمانی و ذہنی صحت – امیدوار بوڑھا، اپاہج، نابینا، یا کسی ایسی بیماری میں مبتلا نہ ہو جو جماعت کی سرگرمیوں میں رکاوٹ بنے۔


5. نظریاتی ہم آہنگی – جماعت کے نظریے اور نصب العین کو قبول کرے اور اس پر عمل پیرا ہونے کا عہد کرے۔


6. کبیرہ گناہ سے اجتناب – کھلم کھلا فاسق یا کبیرہ گناہوں کا مرتکب نہ ہو۔


7. دستور کی پاسداری – جماعت کے دستور کو مکمل پڑھ کر اس پر عمل کرنے کا عہد کرے۔


8. متضاد نظریات سے گریز – کسی ایسی جماعت یا ادارے کا رکن نہ ہو جس کے نظریات یا مقاصد اسلامی احتسابی جماعت کے مخالف ہوں۔


دفعہ 6: طریقہ شمولیت

جماعت میں شمولیت درج ذیل مراحل پر مشتمل ہوگی:

مرحلہ 1: ابتدائی معلومات کی فراہمی

1. امیدوار اپنی مکمل شناخت (نام، ولدیت، رہائش، تعلیمی پس منظر، سابقہ سرگرمیاں) جماعت کو فراہم کرے گا۔


2. ابتدائی جانچ کے طور پر امیدوار سے کچھ سوالات کیے جائیں گے تاکہ اس کی نیت، ارادہ، اور جماعت کے مقاصد سے ہم آہنگی کو جانچا جا سکے۔


3. تسلی بخش جوابات کی صورت میں امیدوار کو "امیدوارِ جماعت" کے طور پر داخلہ دیا جائے گا۔



مرحلہ 2: تربیتی نصاب اور مطالعہ

4. امیدوار کو جماعت کی بنیادی تعلیمات پر مشتمل "مبادیاتِ جماعت" فراہم کی جائیں گی، جسے مقررہ مدت میں بغور پڑھنا ہوگا۔


5. مبادیات کے ساتھ ایک مختصر تربیتی نصاب بھی پڑھایا جائے گا، جس میں جماعت کے نظریاتی و عملی اصول واضح کیے جائیں گے۔



مرحلہ 3: جانچ اور امتحان

6. مطالعہ مکمل کرنے کے بعد تحریری و زبانی امتحان لیا جائے گا، جس میں درج ذیل امور شامل ہوں گے:

جماعت کے نظریات و مقاصد

اسلامی احتساب کے اصول

جماعت کے ضوابط اور احکامات

اخلاقی و عملی ضوابط



7. امتحان میں کامیابی پر امیدوار کو "سندِ امیدواریت" دی جائے گی۔


8. ناکامی کی صورت میں امیدوار کو دوبارہ مطالعہ کے بعد مقررہ مدت میں دوبارہ امتحان دینا ہوگا۔


9. جب تک امتحان میں کامیابی حاصل نہ کرے، امیدوار کو سند نہیں دی جائے گی اور نہ ہی رکنیت کے اگلے مرحلے میں داخل کیا جائے گا۔



مرحلہ 4: عہد نامہ اور باضابطہ رکنیت

10. کامیاب امیدوار کو امیرِ جماعت یا اس کے مقرر کردہ ذمہ دار کے سامنے عہد نامہ پڑھ کر دستخط کرنا ہوگا۔


11. عہد نامے پر دستخط کے بعد امیدوار "عامل رکن" قرار پائے گا اور جماعت کے تمام اصول و ضوابط کی پابندی کا پابند ہوگا۔




---

دفعہ 7: فرائضِ رکنیت

رکنیت حاصل کرنے کے بعد ہر رکن پر درج ذیل فرائض عائد ہوں گے:

1. علم الفرائض کا حصول – اس علم کی تفصیل توضیحات میں موجود ہے۔


2. فرائض کی باقاعدگی سے ادائیگی – دینی و جماعتی فرائض کو کسی حال میں نظرانداز نہ کرے۔


3. نفسانی خواہشات سے اجتناب – ذاتی خواہشات کو جماعتی نظم پر ترجیح نہ دے۔


4. اختلافی مسائل میں نہ پڑنا – وہ مسائل جن میں امت مسلمہ کا متفقہ نظریہ نہ ہو، ان میں الجھنے سے گریز کرے۔


5. نظریاتی استقامت – جماعت کے نظریے اور نصب العین پر مضبوطی سے قائم رہے۔


6. دعوت و تبلیغ – ہر وقت اور ہر موقع پر جماعت کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرے۔


7. اسلامی احکام کی پاسداری – خود پر اور اپنے ماتحت افراد پر اسلامی احکام نافذ کرے۔


8. امراء جماعت کی اطاعت – معروف احکامات میں جماعت کے امراء کی اطاعت کو لازم سمجھے۔


9. مجالسِ جماعت کے آداب کا خیال – جماعتی اجلاسوں اور سرگرمیوں میں آداب و قواعد کی مکمل پاسداری کرے۔


10. دین کی خدمت میں مسلسل جدوجہد – ہر وقت دینِ اسلام کی سربلندی اور جماعت کے مقاصد کے حصول کے لیے سرگرم عمل رہے۔


حصہ دوم: انتظامات





دفعہ 8: جماعت کا نظام

1. جماعت کا نظام اسلامی اصولِ شوریٰ پر مبنی ہوگا۔


2. تمام اہم معاملات مشاورت سے طے کیے جائیں گے۔


3. جماعت میں ہر سطح پر دیانت، امانت اور عدل کو یقینی بنایا جائے گا۔



دفعہ 9: معیارِ منصب

1. جماعت میں منصب کا تعین صرف تقویٰ، دیانت اور جماعت سے وفاداری کی بنیاد پر ہوگا۔


2. امرائے جماعت کے انتخاب میں درج ذیل اوصاف کو مدنظر رکھا جائے گا:

امارت کے خواہشمند نہ ہوں۔

جماعت کے ارکان ان پر اعتماد رکھتے ہوں۔

زہد و تقویٰ، علم و حکمت، فہم و فراست، تدبر و تفکر، استقامت و پائیداری اور انتظامی اہلیت کے حامل ہوں۔



3. مجلس شوریٰ کے اراکین کے لیے درج ذیل اوصاف لازمی ہوں گے:

رکنیت کے خواہشمند نہ ہوں۔

فہم و فراست، زہد و تقویٰ، تدبر و تفکر اور دینی خدمات میں ممتاز ہوں۔

صاحب الرائے اور بلند نظر ہوں۔




دفعہ 10: مرکزی نظام

جماعت کا مرکزی نظام درج ذیل اجزاء پر مشتمل ہوگا:

الف) امرائے جماعت:

1. امیر جماعت – جماعت کا اعلیٰ ترین سربراہ۔


2. نائب امیر – امیر کا معاون اور قائم مقام۔


3. ناظمین شعبہ جات – مختلف شعبہ جات کے منتظمین۔



ب) مجالسِ جماعت:

1. مجلس شوریٰ – جماعت کی اعلیٰ ترین مشاورتی مجلس۔


2. مجلس عاملہ – جماعت کے انتظامی و عملی امور سرانجام دینے والی مجلس۔


3. مجلس عامہ – تمام ارکان پر مشتمل عمومی مجلس۔



امیر جماعت


دفعہ 11: حیثیت، تقرر اور میعاد

1. جماعت کا ایک ہی امیر ہوگا، اور تمام ارکان اطاعتِ فی المعروف کے پابند ہوں گے۔


2. امیر کا تعین مجلس شوریٰ کرے گی۔


3. امیر کی مدتِ امارت تاحیات ہوگی۔


4. اگر کسی بھی وجہ سے منصبِ امارت خالی ہو جائے (استعفیٰ، معزولی یا دیگر وجوہات)، تو مجلس شوریٰ فوری طور پر نئے امیر کا انتخاب کرے گی، اور انتخاب ہونے تک نائب امیر کو امارت کا حق حاصل ہوگا۔


5. اگر کسی وقت امیر کو عارضی طور پر اپنے فرائض سے سبکدوش ہونا پڑے تو اس صورت میں بھی نائب امیر قائم مقام امیر ہوگا۔



دفعہ 12: حلف

امیر جماعت منصب سنبھالنے سے قبل ایک مخصوص حلف اٹھائے گا، جو "حلف نامہ" میں درج ہے۔

یہ حلف حسبِ موقع مجلس عامہ کے اجلاس میں اٹھایا جائے گا۔


دفعہ 13: فرائض

امیر جماعت کے ذمے درج ذیل فرائض ہوں گے:

1. جماعت کے نظم و نسق اور انتظامی معاملات کی آخری ذمہ داری امیر جماعت پر ہوگی، اور وہ مجلس شوریٰ کو جواب دہ ہوگا۔


2. جماعت کی پالیسی کی تشکیل اور اہم مسائل کا فیصلہ مجلس شوریٰ کے مشورے سے کیا جائے گا۔


3. امیر جماعت درج ذیل اصولوں پر کاربند ہوگا:

اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کو ہر چیز پر مقدم رکھے گا۔

جماعت کے نظریے، مقاصد اور نصب العین کو ہمیشہ پیش نظر رکھے گا۔

ذاتی مفادات پر جماعت کے مفاد کو ترجیح دے گا۔

فیصلے عدل و انصاف کے اصولوں کے مطابق کرے گا۔

جماعت کی دی گئی امانتوں کی حفاظت کرے گا۔

خود کو دستور کا پابند بنائے گا اور نظام کو دستور کے مطابق چلانے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔




دفعہ 14: اختیارات

1. مجلس شوریٰ کے ارکان میں سے مجلس عاملہ کی نامزدگی۔


2. اہم اور فوری نوعیت کے مسائل پر ممکنہ حد تک فیصلہ سازی۔


3. مجلس شوریٰ سے مشورہ کر کے نائب امیر کا انتخاب۔


4. جماعت کے تمام انتظامی معاملات کی نگرانی اور عملی اقدامات۔


5. ماتحت امراء کی تقرری یا معزولی۔


6. جب ضروری سمجھے، مجالس جماعت کا اجلاس طلب کرنے کا اختیار۔

نائب امیر


دفعہ 15: حیثیت، تقرر اور میعاد

1. جماعت کا ایک نائب امیر ہوگا، جو امیر کے قائم مقام ہوگا۔


2. امیر جماعت، مجلس شوریٰ کے مشورے سے نائب امیر کا انتخاب کرے گا۔


3. نائب امیر کی مدتِ تقرر اس وقت تک رہے گی جب تک نیا امیر آ کر نیا نائب امیر منتخب نہ کر لے۔



دفعہ 16: حلف

نائب امیر اپنے منصب سنبھالنے سے قبل امیر جماعت کے سامنے وہ حلف اٹھائے گا جو "حلف نامہ" میں درج ہے۔


دفعہ 17: معزولی

1. نائب امیر اس وقت تک اپنے منصب پر برقرار رہے گا جب تک امیر جماعت اس کے کام سے مطمئن ہو۔


2. نائب امیر کو امیر جماعت، مجلس شوریٰ یا مجلس عاملہ کے مشورے سے معزول کر سکتا ہے۔



دفعہ 18: فرائض و اختیارات

1. نائب امیر تمام امور میں امیر جماعت کا مددگار اور نمائندہ ہوگا۔


2. نائب امیر وہ تمام فرائض انجام دے گا اور وہ تمام اختیارات حاصل کرے گا جو امیر جماعت اسے تفویض کرے گا۔


3. نائب امیر اپنے تمام امور کے لیے امیر جماعت کے سامنے جواب دہ ہوگا۔








ناظمینِ شعبہ جات


دفعہ 19: حیثیت، تقرر اور میعاد

1. ہر شعبے کا ایک ناظم ہوگا، جو اس شعبے کا سربراہ اور نگران ہوگا، اور اس ناظم کو "اعلیٰ" کہا جائے گا۔


2. ناظمین کا تقرر امیر جماعت، مجلس شوریٰ کے مشورے سے کرے گا۔


3. ناظمین تب تک اپنے منصب پر فائز رہیں گے جب تک امیر جماعت اور مجلس شوریٰ ان کے کام سے مطمئن ہوں۔



دفعہ 20: معزولی

امیر جماعت مجلس شوریٰ کے مشورے سے ناظمین کو معزول کر سکتا ہے۔


دفعہ 21: فرائض و اختیارات

ناظمین کے لیے درج ذیل فرائض و اختیارات مقرر ہوں گے:

1. اپنے شعبے میں کام کرنے والوں کی نگرانی اور جانچ پڑتال کرنا۔


2. اپنے شعبے کو اسلامی اصولوں کے مطابق چلانا۔


3. اپنے شعبے کی کامیابی کے لیے بھرپور محنت اور سرگرمی دکھانا۔


4. امیر جماعت کی طرف سے تفویض کردہ فرائض کو دیانت داری سے ادا کرنا۔

مجلس شوریٰ


دفعہ 22: حیثیت، تقرر اور میعاد

1. امیر جماعت کے امداد اور مشورے کے لیے ایک مجلس ہوگی، جس کا نام "مجلس شوریٰ" ہوگا۔


2. مجلس شوریٰ کے ارکان کا انتخاب تقویٰ اور جماعت سے وفاداری کی بنیاد پر مجلس عامہ کرے گی۔



دفعہ 23: ترکیب

مجلس شوریٰ کی ترکیب درج ذیل ہوگی:

1. مجلس شوریٰ کے منتخب ارکان کی تعداد کم از کم 14 اور زیادہ سے زیادہ 72 ہوگی۔


2. امیر جماعت اس مجلس کا صدر ہوگا۔


3. آراء کے مساوی ہونے کی صورت میں امیر جماعت کو ترجیحی رائے دینے کا حق حاصل ہوگا۔


4. نائب امیر بھی مجلس کا رکن ہوگا۔


5. اگر مرکزی مجلس شوریٰ کی کوئی نشست خالی ہو جائے تو اسے ایک ماہ کے اندر پُر کرنا لازم ہوگا۔



دفعہ 24: افتتاحی اجلاس

مجلس شوریٰ کے ارکان کے انتخاب کے بعد ایک ماہ کے اندر امیر جماعت افتتاحی اجلاس طلب کرے گا۔


دفعہ 25: حلف برداری

نو منتخب ارکانِ مجلس شوریٰ امیر جماعت کے سامنے وہ حلف اٹھائیں گے جو حلف نامے میں درج ہے۔

امیر جماعت انہیں ذمہ داریوں اور جماعت کے امور سے آگاہ کرے گا۔


دفعہ 26: معمول کا اجلاس

1. مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس معمول کے مطابق ہر تین ماہ میں ایک بار منعقد کرنا لازم ہوگا۔


2. سالانہ اجلاس میں جماعت کی سال بھر کی کارکردگی اور آئندہ سال کے لائحہ عمل کو مجلس عامہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔



دفعہ 27: غیر معمولی اجلاس

امیر جماعت جب ضرورت سمجھے، مجلس شوریٰ کا غیر معمولی اجلاس طلب کر سکتا ہے۔


دفعہ 28: سامعین اجلاس

1. مجلس شوریٰ کے اجلاس میں ہر رکن جماعت کو بطور سامع شریک ہونے کا اختیار ہوگا۔


2. امیر جماعت ضرورت کے مطابق عارضی طور پر یہ اختیار معطل کر سکتا ہے۔



دفعہ 29: نصابِ حاضری

1. مجلس شوریٰ کے اجلاس میں ارکان کی کم از کم ایک تہائی اکثریت کی موجودگی لازم ہوگی۔


2. اگر اجلاس ملتوی کر دیا جائے تو دوسری نشست میں کوئی نصاب لازم نہیں ہوگا۔



دفعہ 30: طریقۂ فیصلہ

اجلاس کا حتمی فیصلہ قرآن و سنت کی روشنی میں امیر جماعت کرے گا۔


دفعہ 31: فرائض

مجلس شوریٰ کے ارکان کا مجموعی اور انفرادی فرض ہوگا کہ وہ:

1. اللہ اور رسول کی اطاعت اور جماعت سے وفاداری کو ہر شے پر مقدم رکھیں۔


2. امیر جماعت اور اپنے اعمال پر نظر رکھیں اور جماعت کے نظریے، مقصد اور نصب العین کے پابند رہیں۔


3. مجلس کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کریں۔


4. ہر معاملے میں دیانت داری اور خلوص سے اپنی رائے کا اظہار کریں۔


5. ذاتی مفادات یا جانبداری سے اجتناب کریں۔


6. اگر جماعت کے معاملات میں کوئی غلطی دیکھیں تو اس کی اصلاح کریں۔



دفعہ 32: اختیارات

مجلس شوریٰ کے ارکان کو درج ذیل اختیارات حاصل ہوں گے:

1. جماعت کی پالیسی تشکیل دینا۔


2. امیر جماعت کی معزولی، بشرطیکہ مجلس کی دو تہائی اکثریت عدم اعتماد کی قرارداد منظور کرے۔


3. دستور میں ترمیم و تدوین، بشرطیکہ مجلس عامہ کی دو تہائی اکثریت اسے قبول کرے۔


4. مجلس عامہ کا اجلاس طلب کرنا۔


5. جماعت کے مقاصد اور نصب العین کے حصول کے لیے دستور کے مطابق ہر ممکن کوشش کرنا۔






مجلس عاملہ


دفعہ 33: حیثیت، تقرر اور میعاد

1. جماعت میں ایک مجلس عاملہ ہوگی، جو 12 ارکان پر مشتمل ہوگی۔


2. نائب امیر، شعبوں کے ناظمین اور دیگر امراء اس مجلس کے رکن ہوں گے۔


3. امیر جماعت، مجلس شوریٰ کے ارکان میں سے مجلس عاملہ کا انتخاب کرے گا۔


4. امیر جماعت کی تبدیلی کے ساتھ ہی مجلس عاملہ کی معیاد ختم ہو جائے گی۔



دفعہ 34: اجلاس

امیر جماعت جب ضروری سمجھے، مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کر سکتا ہے۔


دفعہ 35: فرائض و اختیارات

مجلس عاملہ کے درج ذیل فرائض و اختیارات ہوں گے:

1. تمام شعبوں کے انتظامی امور سے متعلق مسائل کو گفت و شنید سے حل کرنا۔


2. شعبوں کے ناظمین سے شعبہ جات کی کارکردگی اور معاملات کی جانچ پڑتال کرنا۔




مجلس عامہ


دفعہ 36: حیثیت

1. تمام ارکان جماعت پر مشتمل ایک مجلس ہوگی، جسے "مجلس عامہ" کہا جائے گا۔


2. جماعت کے تمام ارکان بلا تفریق اس مجلس کے رکن ہوں گے۔



دفعہ 37: اجلاس

1. ہر چھ ماہ کے اندر مجلس عامہ کا ایک اجلاس لازمی ہوگا۔


2. امیر جماعت یا مجلس شوریٰ جب ضروری سمجھے، مجلس عامہ کا اجلاس طلب کر سکتے ہیں۔



دفعہ 38: فرائض و اختیارات

مجلس عامہ کے درج ذیل فرائض و اختیارات ہوں گے:

1. مجلس شوریٰ اور مجلس عاملہ مجلس عامہ کے سامنے جواب دہ ہوں گے۔


2. مجلس عامہ، مجلس شوریٰ کے ارکان کا انتخاب کرے گی۔






حصہ سوم: تعلیمی و تربیتی نظام






دفعہ 39: تعلیم و تربیت کا عمومی اصول

1. اسلامی احتسابی جماعت کے تمام ارکان کے لیے دینی، فکری، اور عملی تربیت لازم ہوگی تاکہ وہ اپنے فرائض کو بہتر انداز میں انجام دے سکیں۔


2. تعلیم و تربیت کا نظام جماعت کے بنیادی مقاصد کے مطابق ہوگا اور ہر رکن کے لیے اس کی پیروی ضروری ہوگی۔



دفعہ 40: دروس و مطالعاتی حلقے

1. جماعت کے تمام ارکان کے لیے ہفتہ وار اور ماہانہ دروس اور مطالعاتی حلقے منعقد کیے جائیں گے۔


2. دروس میں قرآن، حدیث، فقہ اور اسلامی تحریکوں کی تاریخ سے متعلق اسباق شامل ہوں گے۔


3. ہر رکن کو متعین کتب اور نصاب کا مطالعہ کرنا لازم ہوگا، جس کی نگرانی تربیتی کمیٹی کرے گی۔



دفعہ 41: تربیتی نصاب

1. جماعت کا ایک متعین تربیتی نصاب ہوگا جو اسلامی علوم، اخلاقیات، اور اجتماعی زندگی کے اصولوں پر مشتمل ہوگا۔


2. یہ نصاب جماعت کی شوریٰ کی منظوری سے وقتاً فوقتاً نظرثانی کے بعد اپڈیٹ کیا جائے گا۔


3. ہر رکن کو جماعت کی بنیادی کتب اور اصول ازبر کرنے ہوں گے۔



دفعہ 42: امتحانات و جائزہ

1. ارکان کی تعلیمی و فکری ترقی کا جائزہ لینے کے لیے جماعت سالانہ امتحانات منعقد کرے گی۔


2. کامیاب ہونے والے ارکان کو جماعت کے تعلیمی درجات کے مطابق اسناد دی جائیں گی۔


3. تربیتی معیار پر پورا نہ اترنے والے ارکان کو جماعت کی طرف سے مزید تربیت دی جائے گی۔




حصہ چہارم: مالیاتی نظام






دفعہ 43: مالی وسائل

1. اسلامی احتسابی جماعت کے مالی وسائل میں درج ذیل ذرائع شامل ہوں گے:

1. ارکان کے ماہانہ چندے۔


2. جماعت کے معاونین کی رضاکارانہ امداد۔


3. زکوٰۃ، صدقات اور عطیات۔


4. جماعت کے ذیلی اداروں سے حاصل شدہ آمدن۔





دفعہ 44: مالی نظم و ضبط

1. جماعت کے تمام مالی امور شفاف ہوں گے، اور ان کا مکمل حساب رکھا جائے گا۔


2. مالیات کے نظم کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو جماعت کے اخراجات اور آمدن کی نگرانی کرے گی۔


3. جماعت کے مالی وسائل کا استعمال صرف جماعت کے طے شدہ مقاصد کے لیے ہوگا۔



دفعہ 45: سالانہ حساب کتاب

1. جماعت کے مالیاتی امور کا سالانہ آڈٹ کیا جائے گا۔


2. آڈٹ رپورٹ جماعت کی شوریٰ کے سامنے پیش کی جائے گی اور ارکان کو اس سے آگاہ کیا جائے گا۔

حصہ پنجم: دعوت و تبلیغ کا نظام


دفعہ 46: عمومی اصول

1. اسلامی احتسابی جماعت کا بنیادی ہدف امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ذریعے اسلامی اقدار کو فروغ دینا ہے۔


2. جماعت کے تمام دعوتی امور اسلامی اصولوں اور جماعت کے منشور کے مطابق انجام دیے جائیں گے۔



دفعہ 47: دعوتی ذرائع

1. دعوت کے لیے درج ذیل ذرائع استعمال کیے جائیں گے:

1. خطباتِ جمعہ اور دروسِ قرآن و حدیث۔


2. اسلامی کتب و رسائل کی اشاعت۔


3. سوشل میڈیا، ویب سائٹس، اور دیگر جدید ذرائع ابلاغ۔


4. علمی و فکری سیمینارز، کانفرنسز اور ورکشاپس۔





دفعہ 48: مبلغین کی تربیت

1. جماعت اپنے مبلغین کی دینی، فکری اور علمی تربیت کا اہتمام کرے گی۔


2. ہر مبلغ کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ جماعت کے عقائد، اصولوں اور دعوتی طریقہ کار پر مکمل عبور رکھتا ہو۔


3. مبلغین کے لیے مستقل تربیتی اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔


حصہ ہشتم: سماجی خدمات








دفعہ 49: خدمت خلق

1. جماعت سماجی بھلائی کے لیے درج ذیل اقدامات کرے گی:

1. غریبوں اور مساکین کی امداد۔


2. یتیموں اور بیواؤں کے لیے خصوصی فلاحی منصوبے۔


3. صحت و تعلیم کے شعبے میں عوامی خدمات کی فراہمی۔


4. قدرتی آفات میں امدادی سرگرمیاں۔





دفعہ 50: تعلیمی و رفاہی ادارے

1. جماعت تعلیمی ادارے قائم کرے گی تاکہ نئی نسل کو اسلامی تعلیمات کے مطابق تربیت دی جا سکے۔


2. رفاہی مراکز، طبی کیمپس اور فلاحی اسکیموں کا قیام جماعت کے تحت ہوگا۔









حصہ ششم: احتسابی نظام




دفعہ 51: داخلی احتساب

1. جماعت کے تمام ارکان کو اخلاقی، دینی اور تنظیمی ضوابط کا مکمل طور پر پابند بنایا جائے گا۔


2. اگر کوئی رکن جماعت کے اصولوں کی خلاف ورزی کرے تو اسے پہلے وارننگ دی جائے گی۔


3. مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں شوریٰ کی منظوری سے اس کی رکنیت معطل کی جا سکتی ہے۔



دفعہ 52: امر بالمعروف و نہی عن المنکر

1. جماعت اسلامی معاشرے میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اصول کو عام کرنے کے لیے کام کرے گی۔


2. اس مقصد کے لیے ایک مستقل کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو نگرانی اور عمل درآمد کی ذمہ داری سنبھالے گی۔




---

حصہ ہفتم: بین الاقوامی روابط



دفعہ 53: اسلامی اتحاد

1. جماعت دیگر اسلامی تنظیموں اور اداروں کے ساتھ مثبت تعلقات استوار کرے گی۔


2. امت مسلمہ کے اتحاد اور یکجہتی کے لیے جماعت عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کرے گی۔



دفعہ 54: عالمی اسلامی تحریکوں سے تعلقات

1. جماعت، اسلامی تحریکوں سے فکری اور دعوتی سطح پر روابط رکھے گی۔


2. علمی، تحقیقی اور اصلاحی کاموں میں دیگر اسلامی اداروں سے تعاون حاصل کیا جائے گا۔




---



حصہ نہم: اصلاحی و تحقیقی کام






دفعہ 55: تحقیقی ادارے

1. جماعت اسلامی فقہ، عقائد، اور سماجی علوم پر تحقیق کے لیے ایک تحقیقی ادارہ قائم کرے گی۔


2. یہ ادارہ جدید مسائل پر اسلامی نقطہ نظر سے تحقیق کر کے جماعت کو رہنمائی فراہم کرے گا۔



دفعہ 56: علمی سیمینارز

1. جماعت دینی، فکری اور علمی مسائل پر سیمینارز اور کانفرنسز منعقد کرے گی۔


2. ان پروگراموں میں اسلامی اسکالرز، محققین اور فکری رہنما شرکت کریں گے۔




---



حصہ دہم: جماعت کا تحفظ



دفعہ 57: داخلی و خارجی خطرات

1. جماعت کے خلاف کسی بھی قسم کے پروپیگنڈے کا مدلل جواب دیا جائے گا۔


2. جماعت کے اصولوں اور نظریات کا علمی دفاع کیا جائے گا۔



دفعہ 58: حفاظتی تدابیر

1. جماعت کی قیادت اور اہم ارکان کی حفاظت کے لیے خصوصی تدابیر اختیار کی جائیں گی۔


2. جماعت کے داخلی معاملات اور منصوبہ بندی کو کسی غیر متعلقہ شخص کے سامنے ظاہر کرنا منع ہوگا۔









حصہ ۔ ضروریات


اس حصے میں جماعت کے دیگر ضروریات درج کی گئی ہیں۔

دفعہ 59: ارکان مجلس شوریٰ کی معزولی

مجلس شوریٰ کے ارکان درج ذیل صورتوں میں معزول ہو جائیں گے:

1. اگر وہ جماعت کے رکن نہ رہیں۔


2. اگر وہ مجلس کے دو اجلاسوں میں بلا کسی معقول وجہ کے غیر حاضر رہیں۔


3. اگر وہ مجلس کی رکنیت سے مستعفی ہو جائیں اور امیر جماعت ان کا استعفیٰ قبول کر لے۔


4. اگر ارکان جماعت کی دو تہائی اکثریت ان پر عدم اعتماد کا اظہار کرے۔




---

دفعہ 60: جماعت سے اخراج

ارکان جماعت کا جماعت سے اخراج درج ذیل صورتوں میں ہوگا:

1. اگر وہ اپنے عہدِ رکنیت سے قولاً یا عملاً انحراف کریں۔


2. اگر وہ نظمِ جماعت کی خلاف ورزی کریں۔


3. اگر وہ جماعت کی اعلان کردہ پالیسی کی خلاف ورزی کریں۔


4. اگر وہ کوئی ایسا فعل کریں جو جماعت کی اخلاقی و دینی حیثیت کو نقصان پہنچائے۔


5. اگر ان کے طرزِ عمل سے ظاہر ہو کہ وہ جماعت کے ساتھ مخلص نہیں ہیں۔


6. اگر وہ جماعت کے کاموں میں دلچسپی لینا چھوڑ دیں۔


7. اگر وہ جماعت سے غداری کریں یا جماعت کا کوئی راز افشا کریں۔




---

دفعہ 61: فیصلہ سازی

عدلیہ کو درج ذیل صورتوں میں ہی فیصلہ سازی کا حق حاصل ہوگا:

1. عادل کی گواہی پر۔


2. مضبوط ثبوت کی بنیاد پر۔


3. تحقیق و تفتیش سے صحیح معلومات حاصل ہونے پر۔


4. کامل یقین ہونے پر۔


5. اقرار (اعتراف) پر۔




---

دفعہ 62: تنقید و محاسبہ کی آزادی

1. تمام ارکان جماعت کو شریعت و اخلاقی حدود میں رہ کر تنقید و محاسبہ کی آزادی حاصل ہوگی۔


2. اگر کسی کو امیر جماعت، مجلس شوریٰ یا مجلس عاملہ کے فیصلوں پر اعتراض ہو تو وہ معقول دلیل کے ساتھ اپنا اعتراض تحریری طور پر امیر جماعت تک پہنچائے یا خود امیر جماعت سے ملاقات کرے۔


3. جماعت کے کسی بھی امیر یا کسی بھی مجلس پر بے بنیاد الزام لگانا قطعاً برداشت نہیں کیا جائے گا۔




---

دفعہ 63: قواعد سازی

دستور کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے امیر جماعت، مجلس شوریٰ یا مجلس عاملہ کے مشورے سے قواعد سازی کر سکتا ہے۔


---

دفعہ 64: ترمیم دستور

1. تمام ارکان جماعت کو دستور میں ترمیم کی تجویز پیش کرنے کا حق حاصل ہوگا۔


2. درج ذیل صورتوں میں مجلس شوریٰ دستور میں ترمیم کر سکے گی:

اگر مجلس شوریٰ کے تمام ارکان متفق ہوں۔

اگر مجلس عامہ کے دو تہائی ارکان متفق ہوں۔





---

دفعہ 65: انتخابات

جماعت کے مختلف عہدوں پر انتخاب کا طریقہ درج ذیل ہوگا:

1. مجلس عامہ، مجلس شوریٰ کا انتخاب کرے گی۔


2. مجلس شوریٰ، امیر جماعت کا انتخاب کرے گی۔


3. امیر جماعت، مجلس شوریٰ کے مشورے سے نائب امیر کا انتخاب کرے گا۔


4. امیر جماعت، مجلس شوریٰ کے مشورے سے شعبوں کے ناظمین کا انتخاب کرے گا۔


5. امیر جماعت، مجلس شوریٰ میں سے اپنی مجلس عاملہ کا انتخاب کرے گا۔





حصہ ۔ توضیحات


اس حصے میں دستور میں درج بعض اصطلاحات کی تشریح کی گئی ہے۔






دفعہ 66: اصطلاحات

دستور میں مذکور اصطلاحات کی تشریح اس کے مطابق ہوگی۔ بعض اہم اصطلاحات درج ذیل ہیں:

1- صحیح مسلم


وہ شخص جو درج ذیل عقائد و اعمال پر ایمان رکھے، وہ صحیح مسلم کہلائے گا:

اللہ ﷻ پر ایمان

اس کے فرشتوں پر ایمان

اس کی کتابوں پر ایمان

اس کے رسولوں پر ایمان

روزِ آخرت پر ایمان

کلمہ شہادت (لا الہ الا اللہ، محمد رسول اللہ) کا اقرار

نماز قائم کرنا

مالدار ہونے کی صورت میں زکوٰۃ ادا کرنا

ماہ رمضان کے روزے رکھنا

استطاعت ہونے پر بیت اللہ شریف کا حج ادا کرنا



---

2- مبادیات جماعت


مبادیات جماعت میں درج ذیل پانچ چیزیں شامل ہیں:

1. جماعت کا تعارف


2. جماعت کے مقاصد


3. انقلابی نظریہ


4. لائحہ عمل


5. دستور اسلامی احتسابی جماعت




---

3- علم فرائض


تعریف:
وہ علم جس میں فرائض پر بحث کی جاتی ہے۔

ارکان:
علم فرائض کے تین (3) رکن ہیں:

1. اعتقادات


2. عبادات


3. معاملات




---

(1) اعتقادات

اعتقادات میں درج ذیل پانچ چیزیں شامل ہیں:

1. توحید


2. رسالت


3. ملائکہ


4. کتب سماویہ


5. آخرت




---

(2) عبادات

عبادات میں ارکانِ اسلام شامل ہیں، جو درج ذیل پانچ ہیں:

1. شہادت (کلمہ طیبہ کا اقرار)


2. نماز


3. روزہ


4. زکوٰۃ


5. حج




---

(3) معاملات

معاملات درج ذیل دو اقسام پر مشتمل ہیں:

1. انفرادی معاملات


2. اجتماعی معاملات 




تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

دعوت عام

اسلامی سیاست کے وہ ۵ حقائق جو آپ کو حیران کر دیں گے: ایک فکری مطالعہ