احتساب

احتساب (امر بالمعروف و نہی عن المنکر)


اسلامی احتسابی جماعت کا دوسرا بنیادی مقصد احتساب ہے، جو کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر (نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا) پر مبنی ہے۔ یہ مقصد اسلامی معاشرے کی اصلاح، بدی کے خاتمے اور نیکی کو فروغ دینے سے متعلق ہے۔


---

✅ احتساب کی اہمیت


1. امر بالمعروف و نہی عن المنکر اسلام کی بنیادوں میں سے ایک ہے:
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اس کام کو ایمان والوں کی اہم ترین ذمہ داری قرار دیا ہے:

"كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ"
(آل عمران: 110)
ترجمہ: "تم بہترین امت ہو، جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔"

2. احتساب کے بغیر معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے:
اگر نیکی کو فروغ نہ دیا جائے اور برائی کو نہ روکا جائے، تو معاشرہ بدعنوانی، ظلم، اور فتنہ و فساد کا شکار ہو جاتا ہے۔

3. نبی کریم ﷺ کی بعثت کا مقصد بھی یہی تھا:
اللہ کے رسول ﷺ کو معاشرتی اصلاح اور لوگوں کو نیکی کی دعوت دینے کے لیے بھیجا گیا۔


---

⬅️ احتساب کے تحت جماعت کے عملی اقدامات


1. نیکی کے فروغ کے لیے اقدامات

✔️ لوگوں کو نیکی کی ترغیب دینا اور اسلامی تعلیمات کو عام کرنا۔
✔️ خطبات، دروس، اور اجتماعات کے ذریعے امر بالمعروف کو فروغ دینا۔
✔️ تعلیم و تربیت کے ذریعے معاشرے میں نیکی کا ماحول پیدا کرنا۔

2. برائیوں کے خاتمے کے لیے اقدامات

✔️ برائیوں کے خلاف پرامن اور حکمت بھرا موقف اختیار کرنا۔
✔️ ظلم، بے حیائی، فحاشی، بدعنوانی، اور دیگر سماجی برائیوں کے خلاف عوامی شعور بیدار کرنا۔
✔️ اسلامی اقدار کے خلاف کام کرنے والے عناصر کی نشاندہی کرنا اور ان کی اصلاح کے لیے موثر کوششیں کرنا۔

3. اصلاحِ معاشرہ اور ذمہ داری کا شعور اجاگر کرنا

✔️ ہر مسلمان کو معروف (نیکی) کی ترغیب دینے اور منکر (برائی) سے روکنے کا شعور دینا۔
✔️ علماء، مشائخ اور نوجوانوں کو اس مقصد کے لیے متحرک کرنا۔
✔️ تعلیمی اداروں، مساجد اور دیگر مقامات پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ترغیب دینا۔


---

⬅️ قرآن و حدیث کی روشنی میں احتساب


1️⃣ اللہ تعالیٰ نے نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے روکنے کو کامیابی کی علامت قرار دیا:

"وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ"
(آل عمران: 104)
ترجمہ: "اور تم میں ایک ایسی جماعت ہونی چاہیے جو نیکی کی دعوت دے، بھلائی کا حکم دے، اور برائی سے روکے، اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔"

2️⃣ برائی کو روکنے کی تین سطحیں:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص تم میں سے کسی برائی کو دیکھے، تو وہ اسے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے روکے، اور اگر یہ بھی نہ کر سکے تو دل میں برا جانے، اور یہ کمزور ترین ایمان ہے۔" (مسلم، 49)

3️⃣ جو برائی کو نہ روکے، وہ خود بھی گناہگار ہے:

"وہ لوگ جو نہ ایک دوسرے کو کسی برے کام سے روکتے تھے جو وہ کرتے تھے، وہ بہت ہی برا تھا جو وہ کیا کرتے تھے۔" (المائدہ: 79)


---

⬅️ اسلامی احتسابی جماعت کا مؤقف


🔹 امر بالمعروف و نہی عن المنکر اسلام کا بنیادی فریضہ ہے، جو ہر مسلمان پر لازم ہے۔
🔹 برائیوں کے خاتمے اور نیکیوں کے فروغ کے بغیر ایک مثالی اسلامی معاشرہ قائم نہیں ہو سکتا۔
🔹 اسلامی احتسابی جماعت اس فریضے کو منظم انداز میں ادا کرنے کا عزم رکھتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جماعت "احتساب" کو اپنے تین بنیادی مقاصد میں سے دوسرا اہم مقصد قرار دیتی ہے۔


---

⏩ اختتامیہ


امر بالمعروف و نہی عن المنکر اسلام کا لازمی حصہ ہے۔ اسلامی احتسابی جماعت اس مشن کو لے کر معاشرتی اصلاح، نیکی کے فروغ، اور برائیوں کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔

آئیے! ہم سب مل کر اسلامی اصولوں کی روشنی میں نیکی کو عام کریں، برائی کو مٹائیں، اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔


اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اس نیک مقصد میں کامیاب فرمائے، آمین۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

دعوت عام

اسلامی سیاست کے وہ ۵ حقائق جو آپ کو حیران کر دیں گے: ایک فکری مطالعہ