نصاب مطالعہ
اسلامی احتسابی جماعت کے امیدوار کے لیے
نصاب مطالعہ
تاریخ اشاعت ۔۔ 2/21/2025
ابتدائیہ
اسلامی احتسابی جماعت کا قیام ایک ایسے معاشرتی اور دینی عزم کی علامت ہے جو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں امت مسلمہ کی اصلاح اور بیداری کی کوششوں کو بروئے کار لاتا ہے۔ جماعت کے اراکین کو اس بات کا پختہ عزم کرنا ہوتا ہے کہ وہ اسلامی احکام اور تعلیمات کی ترویج میں اپنے کردار کو ادا کریں گے، اور اسی مقصد کے لیے ہر رکن کو جماعت کے نصب العین اور اصولوں کا گہرا علم ہونا ضروری ہے۔
نصاب مطالعہ برائے مبادیات اسلامی احتسابی جماعت کا مقصد یہی ہے کہ جماعت کے ہر امیدوار کو ان اہم نکات سے آگاہ کیا جائے جن کے ذریعے وہ جماعت کے نظریات اور اس کی پالیسیوں کو بہتر طور پر سمجھ سکے اور ان پر عمل کر سکے۔
جب کوئی شخص اسلامی احتسابی جماعت کے لیے امیدوار بنتا ہے، تو اسے درج ذیل نکات کا گہرا مطالعہ کرنا ضروری ہوتا ہے:
1. جماعت کا تعارف:
2. جماعت کے مقاصد:
3. انقلابی نظریہ:
4. لائحہ عمل:
5. دستورِ اسلامی احتسابی جماعت:
یہ نصاب مطالعہ ایک تربیتی مرحلہ ہوتا ہے، جس کے ذریعے ہر امیدوار کو جماعت کے مقاصد اور اصولوں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص ان نکات کا مطالعہ مکمل کر لیتا ہے، تو اس سے امتحان لیا جاتا ہے۔ کامیاب ہونے کی صورت میں اُسے جماعت کی رکنیت کی سند دی جاتی ہے، جس سے اس کا جماعت کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا ہے اور وہ اس کے مقاصد کو عملی طور پر پورا کرنے میں شریک ہو سکتا ہے۔
اس نصاب کا مقصد صرف امیدواروں کی تعلیم و تربیت نہیں بلکہ انہیں ایک باخبر اور سمجھ دار رکن بنانا ہے جو جماعت کے دستور و مقاصد پر عمل کر سکے۔
تعارف
جماعت کا نام اور مفہوم
اسلامی احتسابی جماعت ایک ایسی تنظیم ہے جو مکمل طور پر اسلام کے اصولوں پر مبنی ہے۔
لفظی تجزیہ:
اسلامی: اسلام سے منسوب، اطاعتِ الٰہی، مکمل تسلیم و فرماں برداری۔
احتسابی: احتساب سے متعلق، یعنی امر بالمعروف و نہی عن المنکر (نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا)۔
جماعت: گروہ، تنظیم، ایک متحدہ پلیٹ فارم۔
لہٰذا، اسلامی احتسابی جماعت کا مفہوم بنتا ہے:
"ایسی جماعت جو اسلام سے منسلک ہو اور جس کا مقصد امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا عملی نفاذ ہو۔"
---
جماعت کی ضرورت اور قرآنی رہنمائی
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مسلمانوں کو اتحاد اور خیر کی دعوت دینے والی جماعت کے قیام کا حکم دیا ہے:
ارشادِ باری تعالیٰ:
وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا ۖ
"اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔"
(آل عمران: 103)
وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۞
"اور تم میں سے ایک ایسی جماعت ضرور ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے، اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔"
(آل عمران: 104)
وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ تَفَرَّقُوۡا وَاخۡتَلَفُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡبَيِّنٰتُؕ
"اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور واضح نشانیوں کے آ جانے کے بعد بھی اختلاف کرنے لگے۔"
(آل عمران: 105)
ان آیات سے ملنے والے اسباق:
1. امت کو ایک جماعت کی صورت میں متحد ہونا چاہیے۔
2. اس جماعت کا مقصد صرف امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہونا چاہیے۔
3. ایسی جماعت کو فرقہ واریت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
---
موجودہ جماعتوں کا جائزہ اور اسلامی احتسابی جماعت کی انفرادیت
اگر ہم آج کے اسلامی تنظیموں پر نظر ڈالیں تو وہ تین اقسام میں نظر آتی ہیں:
1. کچھ جماعتیں صرف نیکی کی دعوت دیتی ہیں، مگر برائی کے خلاف جدوجہد نہیں کرتیں۔
2. کچھ جماعتیں نیکی کا حکم دیتی اور برائی سے روکتی ہیں، لیکن وہ فرقہ وارانہ وابستگی رکھتی ہیں۔
3. بعض جماعتیں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا دعویٰ کرتی ہیں، مگر ان کے اندر رفعِ اختلاف اور اتحاد بین المسلمین کا کوئی تصور نہیں۔
اسلامی احتسابی جماعت کی انفرادیت:
ہم نہ صرف نیکی کا حکم دیتے ہیں بلکہ برائی کو بھی روکتے ہیں۔
ہم کسی مخصوص فرقے تک محدود نہیں، بلکہ تمام مسلمانوں کو متحد کرتے ہیں۔
ہمارا مقصد رفعِ اختلاف، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، اور اتحاد بین المسلمین ہے۔
نتیجہ: اسلامی احتسابی جماعت کا قیام
چونکہ کوئی ایسی جماعت موجود نہیں جو رفع اختلاف، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، اور اتحاد بین المسلمین کے تمام اصولوں پر عمل کرتی ہو، اس لیے اسلامی احتسابی جماعت کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ جماعت قرآن و سنت کی روشنی میں امت مسلمہ کے زوال کو ختم کر کے ایک حقیقی اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
یہی جماعت درحقیقت قرآن کی مذکورہ آیات کی عملی تفسیر ہے۔
مختصر تاریخی پس منظر
اسلامی احتسابی جماعت کی بنیاد 4 مئی 2009ء کو محمد جنید احتسابی نے رکھی۔ ابتدا میں اس کا کوئی مخصوص نام اور واضح مقصد نہیں تھا، لیکن جماعت کا بنیادی مقصد معاشرتی برائیوں کا خاتمہ اور نیکی کو فروغ دینا تھا۔ 2017ء میں "اسلامی احتسابی جماعت" کے طور پر اس کا نام رکھا گیا۔
جماعت کا مقصد "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" (نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا) ہے، جو قرآن و سنت کے اصولوں پر مبنی ہے۔ جماعت نے ابتدا میں اپنے دعوتی کام کا آغاز کیا اور لوگوں کو اسلامی اصولوں کے مطابق اصلاح کی دعوت دی۔ اس کے بعد جماعت نے قوانین و ضوابط مرتب کیے، تربیتی کورسز شروع کیے، اور سوشل میڈیا کا استعمال بڑھایا۔
چونکہ یہ جماعت ابھی نئی ہے، اس لیے عملی طور پر اقدامات اٹھانے میں کچھ وقت درکار ہے۔ جماعت کی توجہ فی الحال اس کی بنیادی چیزوں کو مستحکم کرنے پر ہے تاکہ مستقبل میں کوئی کمزوری نہ آئے۔ اس دوران، ہم نے اپنے اصول، ضوابط اور حکمت عملی پر زور دینا شروع کیا ہے تاکہ ایک مضبوط اور مستحکم بنیاد بنائی جا سکے۔
جماعت نے مختلف چیلنجز کا سامنا کیا ہے جیسے عہد شکنی، عدم تنظیم و ضوابط، اور تربیت کی کمی، لیکن ان تمام خامیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے جماعت نے اپنے طریقہ کار کو بہتر کیا اور "امر بالمعروف و نہی عن المنکر" کے اصول پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کی۔
یہ جماعت اب تک اپنے مقاصد کے حصول کے لیے محنت جاری رکھے ہوئے ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہے کہ اسے اقامتِ دین کے لیے کامیاب کرے۔
لائحہ عمل
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اسلامی احتسابی جماعت کا قیام امر بالمعروف و نہی عن المنکر، اتحاد بین المسلمین اور رفعِ اختلاف کے اصولوں پر مبنی ہے۔ اس جماعت کا نصب العین "تعظیماً لامر اللہ و شفقۃ علی خلق اللہ" یعنی اللہ کے حکم کی تعظیم اور مخلوق پر شفقت ہے۔ اس لائحہ عمل کو نبوی انقلاب کے اصولوں کی روشنی میں قرآن و حدیث سے مزین کرتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے۔
انقلابی نبوی ﷺ کے چھ مراحل اور جماعت کا لائحہ عمل
---
مرحلہ 1: انقلابی نظریہ کی اشاعت
قرآن و حدیث کی روشنی میں اصول
قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ
"کہہ دو! یہ میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔"
(یوسف: 108)
وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَىٰ تَنفَعُ الْمُؤْمِنِينَ
"اور نصیحت کرو، بے شک نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔"
(الذاریات: 55)
عملی اقدامات
1. تحریری مواد کی تیاری:
انقلابی نظریہ، مقاصد، قوانین، اصول، عہد نامہ، شرائط، اور لائحہ عمل کو تحریری شکل دی جائے۔
2. دعوتی مہم:
سوشل میڈیا، یوٹیوب، ویبسائٹس، لیکچرز، کتابچے، دروس، اور خطبات کے ذریعے نظریہ کو عام کیا جائے۔
3. علمی و فکری تیاری:
قرآن و حدیث پر مبنی تحریرات، تحقیقی مقالات اور سیمینارز کے ذریعے جماعت کی فکری بنیاد مستحکم کی جائے۔
---
مرحلہ 2: جماعت کی تشکیل و تنظیم
قرآن و حدیث کی روشنی میں اصول
إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَرْصُوصٌ
"بے شک اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں، جیسے کہ سیسہ پلائی دیوار ہو۔"
(الصف: 4)
عملی اقدامات
1. دعوتِ عام:
سوشل میڈیا، خطبات، سیمینارز اور عوامی اجتماعات کے ذریعے جماعت کے پیغام کو عام کیا جائے۔
2. اراکین کی بھرتی:
جو افراد نظریہ کو قبول کریں اور شرائط پر پورا اتریں، انہیں جماعت میں شامل کیا جائے۔
3. تنظیمی ڈھانچہ:
جماعت کو مختلف شعبوں میں تقسیم کیا جائے:
دعوت و تبلیغ
تعلیم و تربیت
احتساب و نگرانی
تحقیقات و فتاویٰ
ابلاغ و نشر و اشاعت
4. ناظمین کا تقرر:
ہر شعبے کے لیے ایک ناظم مقرر کیا جائے جو اس کو منظم طریقے سے چلائے۔
---
مرحلہ 3: تعلیم و تربیت
قرآن و حدیث کی روشنی میں اصول
وَلَٰكِنْ كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُونَ
"بلکہ تم ربانی عالم بنو، اس وجہ سے کہ تم کتاب سکھاتے ہو اور اس کا درس دیتے ہو۔"
(آل عمران: 79)
عملی اقدامات
1. تربیتی نصاب کی تشکیل:
جماعت کے اراکین کو قرآن و حدیث، سیرتِ نبوی ﷺ، فقہِ اسلامی، اور اسلامی انقلابی اصولوں کی تعلیم دی جائے۔
2. دارِ ارقم ماڈل:
نبی اکرم ﷺ کے طریقے پر تربیتی مراکز قائم کیے جائیں جہاں اراکین کو نظریاتی اور عملی تربیت دی جائے۔
3. خصوصی تربیتی نشستیں:
علماء، ماہرین اور قائدین کے ذریعے علمی و عملی استعداد میں اضافہ کیا جائے۔
4. عملی مشق:
اراکین کو عملی احتسابی سرگرمیوں میں شامل کیا جائے۔
---
مرحلہ 4: صبر و استقامت
قرآن و حدیث کی روشنی میں اصول
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ... وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ
"ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف، بھوک، جان و مال اور پھلوں کے نقصان سے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔"
(البقرہ: 155)
عملی اقدامات
1. مخالفت اور آزمائش کے لیے ذہنی تیاری
2. تحریک پر ہونے والے حملوں پر صبر اور حکمت سے ردعمل
3. مخالفین کے حملوں کا مقابلہ قانونی اور نظریاتی سطح پر کرنا
---
مرحلہ 5: اقدام اور چیلنج
قرآن و حدیث کی روشنی میں اصول
وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ
"ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہو جائے۔"
(الأنفال: 39)
عملی اقدامات
1. باطل نظام کے خلاف منظم چیلنج
2. مخالفین کو نظریاتی اور عملی طور پر کمزور کرنے کی حکمتِ عملی
3. احتسابی اقدامات میں شدت پیدا کرنا
---
مرحلہ 6: مسلح تصادم اور قیامِ اسلامی ریاست
قرآن و حدیث کی روشنی میں اصول
أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا
"اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے، کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے۔
" (الحج: 39)
عملی اقدامات
1. جب جماعت مکمل طور پر منظم ہو جائے تو ظلم اور باطل کے خلاف مسلح اقدام کیا جائے
2. اسلامی ریاست کے قیام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں
3. منافقت اور طاغوتی قوتوں کا خاتمہ کیا جائے
---
توسیعِ اسلام اور عالمی جہاد
قرآن و حدیث کی روشنی میں اصول
قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ
"ان سے جنگ کرو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔"
(التوبہ: 29)
عملی اقدامات
1. ریاستِ اسلامی کو مستحکم کرنا
2. تمام غیر اسلامی حکومتوں کو اسلام کی دعوت دینا
3. مخالف قوتوں سے جہاد جاری رکھنا جب تک کہ دین مکمل طور پر غالب نہ آ جائے
انقلابی نظریہ
انقلاب کی تعریف
انقلاب کا مطلب کسی معاشرے میں مکمل تبدیلی لانا ہے، جس میں معاشی، سیاسی اور سماجی نظام بدل کر ایک نیا اور بہتر نظام نافذ کیا جائے۔ حقیقی اور کامل انقلاب صرف وہی ہے جو نبی اکرم ﷺ نے برپا کیا، کیونکہ یہ انقلاب زندگی کے ہر پہلو کو محیط تھا۔ دنیا میں مختلف انقلاب آئے، مگر ان میں سے کوئی بھی مکمل نہ تھا، سوائے محمدی انقلاب کے۔
تاریخ میں تین بڑے انقلابات مشہور ہیں:
1. روسی انقلاب ـ صرف معاشی نظام بدلا
2. فرانسیسی انقلاب ـ صرف سیاسی نظام بدلا
3. محمدی انقلاب ـ سیاسی، معاشی اور سماجی نظام سمیت ہر چیز بدل گئی
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"إِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ"
(بے شک، اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود کو نہ بدلے)
(الرعد: 11)
اگر آج کوئی جماعت حقیقی انقلاب برپا کرنا چاہتی ہے تو محمدی انقلاب ہی اس کے لیے واحد راستہ اور ماخذ ہے۔
---
نظریہ کی تعریف
نظریہ کسی بھی معاشرے کے اجتماعی خیالات، عقائد اور افکار کا مجموعہ ہوتا ہے، جو اس کی شناخت اور پہچان بنتا ہے اور اس جماعت کو دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔
نظریہ کی تشکیل میں مدد دینے والے ذرائع درج ذیل ہیں:
1. تاریخ ـ ماضی کے تجربات
2. روایات و رسوم ـ ثقافتی اور مذہبی اصول
3. مزاج و نفسیات ـ معاشرتی رجحانات
4. عقائد ـ دینی اور ایمانی بنیادیں
نظریہ مسلط نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ ایک تدریجی اور ارتقائی عمل کے ذریعے تشکیل پاتا ہے۔ ہر جماعت کو رہنمائی کے لیے ایک واضح نظریہ درکار ہوتا ہے تاکہ وہ اپنے مقاصد اور اہداف کا تعین کرکے اپنی سمت اور طریقۂ کار طے کرے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:
"وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا"
(اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو)
(آل عمران: 103)
---
توحید: اسلامی نظریہ کی بنیاد
توحید ہی وہ نظریہ ہے جو انسانی زندگی میں حقیقی انقلاب برپا کرتا ہے۔ اسلام میں توحید کے تین بنیادی اجزاء ہیں:
1. حاکمیتِ الٰہی ـ صرف اللہ کی حاکمیت مانی جائے اور اسی کے مطابق زندگی بسر کی جائے:
"إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ" (حکم صرف اللہ کا ہے)
(یوسف: 40)
2. امانت ـ انسان کے پاس جو کچھ ہے، وہ اللہ کی دی ہوئی امانت ہے، وہ اس کا اصل مالک نہیں:
"وَآتُوهُم مِّن مَّالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ"
(اور انہیں اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے دو) (النور: 33)
3. مساوات ـ تمام انسان برابر ہیں، فضیلت کا معیار تقویٰ ہے:
"إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ"
(تم میں سے سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے)
(الحجرات: 13)
دنیا کے تمام باطل نظام، خواہ وہ سرمایہ دارانہ ہوں یا اشتراکی، انسانی بنائے ہوئے نظام ہیں جو عدل و انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔
لہذا تمام اہلِ توحید کو ایک جماعت کی صورت میں منظم ہو کر ان باطل نظاموں کو مٹا کر الٰہی نظام نافذ کرنا ہوگا، تاکہ توحید کے تقاضے مکمل طور پر پورے ہو سکیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"وَلَيَنصُرَنَّ اللّٰهُ مَن يَنصُرُهُ ۚ إِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ"
(اللہ ضرور ان کی مدد کرے گا جو اس کے دین کی مدد کرتے ہیں، بے شک اللہ زبردست طاقت والا ہے)
(الحج: 40)
رسالت: اسلامی نظام کی بنیاد
رسالت، اسلام کا دوسرا بنیادی عقیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء علیہم السلام کو زمین پر مبعوث فرمایا تاکہ وہ انسانوں کو ہدایت دیں اور نظامِ الٰہی قائم کریں۔ تمام انبیاء کرام امر بالمعروف و نہی عن المنکر (نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا) کے ذریعے اللہ کے دین کا نفاذ کرتے رہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ"
(اور ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو)
(النحل: 36)
کچھ انبیاء کو اللہ تعالیٰ نے ملک و اقتدار بھی عطا فرمایا، اور انہوں نے الٰہی حکومت قائم کرکے دنیا کو دکھایا کہ اصل اسلامی نظام کیا ہوتا ہے۔ جیسے حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو اللہ نے بادشاہت عطا کی اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ اسلامی نظام نافذ کرتے رہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"يَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ"
(اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا، پس تم لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو)
(ص: 26)
نبی کریم ﷺ نے ریاست مدینہ کی صورت میں مکمل اسلامی نظام قائم فرمایا، جس کا بنیادی نظریہ توحید تھا۔
---
احتساب: اسلامی نظام کا لازمی تقاضا
احتساب کا مطلب ہے امر بالمعروف و نہی عن المنکر (نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا)، جو دین اسلام کا بنیادی نظریہ ہے۔ یہی وہ نظریہ ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کو مبعوث فرمایا، اور جب نبوت کا دروازہ بند کر دیا گیا تو یہ ذمہ داری امتِ محمدیہ پر ڈال دی گئی۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ"
(تم بہترین امت ہو، جو لوگوں کے لیے نکالی گئی، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو)
(آل عمران: 110)
احتساب: انفرادی یا اجتماعی؟
اب سوال یہ ہے کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ انفرادی طور پر ادا کیا جائے یا اجتماعی طور پر؟ اور کیا ہر فرقہ اپنی الگ جماعت بنا کر احتساب کرے؟
اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب واضح الفاظ میں دیا ہے:
1. فرقہ واریت سے بچنے کا حکم:
"وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا"
(اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو)
(آل عمران: 103)
2. اجتماعی طور پر ایک جماعت بنانے کا حکم:
"وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ"
(اور تم میں ایک جماعت ایسی ضرور ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے، اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں)
(آل عمران: 104)
3. فرقہ واریت اور تفرقے کی ممانعت:
"وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ تَفَرَّقُوۡا وَاخۡتَلَفُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡبَيِّنٰتُؕ وَاُولٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ"
(اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور اختلاف کرنے لگے، حالانکہ ان کے پاس واضح نشانیاں آ چکی تھیں، اور انہی لوگوں کے لیے سخت عذاب ہے)
(آل عمران: 105)
---
ایک عالمی اسلامی تنظیم کی ضرورت
قرآنی احکامات کے مطابق، احتساب کا فریضہ ایک اجتماعی تنظیم کے ذریعے ادا کرنا لازم ہے، جو کسی فرقے سے مخصوص نہ ہو بلکہ تمام مسلمانوں کو متحد کرے۔
لیکن افسوس! آج جتنی بھی اسلامی تنظیمیں کام کر رہی ہیں، وہ سب اپنے اپنے فرقے کے ساتھ مخصوص ہیں۔
لہذا، ایک ایسی عالمی اسلامی تنظیم کا قیام ناگزیر ہے، جس کا مقصد ہو:
1. رفعِ اختلاف ـ امت مسلمہ کے درمیان اختلافات کو ختم کرنا ۔
2. احتساب ـ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ذریعے اصلاح
3. اتحاد بین المسلمین ـ تمام مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا
اسی نظریے کو لے کر اسلامی احتسابی جماعت وجود میں آئی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے:
"وَلَيَنصُرَنَّ اللّٰهُ مَن يَنصُرُهُ"
(اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کے دین کی مدد کرتا ہے)
(الحج: 40)
آئیں! ہمارا ساتھ دیں اور اس عظیم نظریہ کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلائیں۔ احتساب کے ذریعے نظام الٰہی قائم کریں۔
مقاصد
قرآنی اساس
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا ۖ وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَ لَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًاۚ وَكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَكُمۡ مِّنۡهَاؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ۞
وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ۞
وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ تَفَرَّقُوۡا وَاخۡتَلَفُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡبَيِّنٰتُؕ وَاُولٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌۙ ۞
(سورۃ آل عمران: 103-105)
ترجمہ:
اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو، اور اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم (ایک دوسرے کے) دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی اور تم اس کی نعمت کے باعث آپس میں بھائی بھائی ہوگئے، اور تم (دوزخ کی) آگ کے گڑھے کے کنارے پر پہنچ چکے تھے، پھر اس نے تمہیں اس گڑھے سے بچا لیا۔ یوں ہی اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پا جاؤ۔
اور ضرور تم میں ایک ایسی جماعت ہونی چاہیے جو نیکی کی دعوت دے، نیکی کا حکم کرے اور برائی سے روکے، اور یہی جماعت حقیقی فلاح پانے والی ہے۔
اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے تھے اور جب ان کے پاس واضح نشانیاں آچکیں، اس کے بعد بھی اختلاف کرنے لگے، اور انہی لوگوں کے لئے سخت عذاب ہے۔
اسلامی احتسابی جماعت کے تین بنیادی مقاصد
1. رفعِ اختلاف (امت مسلمہ کے درمیان اختلافات کو ختم کرنا)
امتِ مسلمہ مختلف فرقہ وارانہ تنازعات میں الجھ چکی ہے۔ اسلامی احتسابی جماعت کا پہلا مقصد ان اختلافات کو ختم کرنا، مسلمانوں کو باہمی محبت اور اخوت کی لڑی میں پرونا، اور امت میں اتفاق و اتحاد کو فروغ دینا ہے۔
قرآن کریم میں فرمایا گیا:
"إِنَّمَا ٱلْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا۟ بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ"
(بے شک، مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، پس اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔)
(سورۃ الحجرات: 10)
2. احتساب (امر بالمعروف و نہی عن المنکر)
یہ جماعت کا مرکزی اور بنیادی مقصد ہے۔ اس کا مطلب نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا ہے۔ اس میں تمام معروفات (نیکیاں) اور تمام منکرات (برائیاں) شامل ہیں۔ اسلامی احتسابی جماعت معاشرے میں خیر کو پھیلانے اور برائی کو روکنے کے لیے سرگرم عمل ہوگی۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ"
(تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی، تم نیکی کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔)
(سورۃ آل عمران: 110)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص تم میں سے کسی برائی کو دیکھے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے روکے، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو دل میں برا جانے، اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔"
(صحیح مسلم: 49)
3. اتحاد بین المسلمین (مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا)
اسلامی احتسابی جماعت کا تیسرا مقصد تمام مسلمانوں کو ایک پرچم کے نیچے اکٹھا کرنا اور ان کے درمیان اتحاد و یگانگت کو فروغ دینا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"إِنَّ هَٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَٰحِدَةً وَأَنَا۠ رَبُّكُمْ فَٱعْبُدُونِ"
(بے شک یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے، اور میں تمہارا رب ہوں، پس میری عبادت کرو۔)
(سورۃ الأنبياء: 92)
نصب العین (Ultimate Goal)
جماعت کا نصب العین "تعظیمًا لِأمرِ اللّٰهِ وَشَفَقَةً عَلٰی خَلقِ اللّٰهِ" یعنی:
1. اللہ کے حکم کی تعظیم (احکامِ الٰہی پر عمل پیرا ہونا اور ان کو نافذ کرنا)
2. مخلوقات پر شفقت (مسلمان بھائیوں کی آخرت کی فکر کرنا، انہیں نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے روکنا)
مجموعی ہدف:
امت مسلمہ کے درمیان اختلاف کو ختم کرنا، انہیں ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنا، اور احتساب کے ذریعے نظامِ الٰہی کا قیام عمل میں لانا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس مقصد میں کامیابی عطا فرمائے، آمین!
دستور
اسلامی احتسابی جماعت کا دستور ایک الگ اور مکمل کتابچہ کی صورت میں موجود ہے، جو جماعت کی بنیادوں، اصولوں، اور ضوابط کی تفصیل بیان کرتا ہے۔ چونکہ یہ دستور ایک اہم دستاویز ہے، اس لیے اسے نصاب مطالعہ میں شامل کیا گیا ہے تاکہ ہر رکن اس کا مطالعہ کریں ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں
کوئی سوال ہو تو بلا جھجک کریں ۔۔