جماعت کی ضرورت

 اسلامی احتسابی جماعت کی ضرورت 

 


 *جماعت کی ضرورت* 




ارشاد باری تعالیٰ ﷻ ہے کہ 


أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْم


بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۝


وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا‌ ۖ وَاذۡكُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ اِذۡ كُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَ لَّفَ بَيۡنَ قُلُوۡبِكُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِهٖۤ اِخۡوَانًاۚ وَكُنۡتُمۡ عَلٰى شَفَا حُفۡرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَكُمۡ مِّنۡهَاؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ ۞ ۔


وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۞


وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ تَفَرَّقُوۡا وَاخۡتَلَفُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ الۡبَيِّنٰتُ‌ؕ وَاُولٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌۙ ۞ ۔


ترجمہ : اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو ، اور اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم ( ایک دوسرے کے ) دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی اور تم اس کی نعمت کے باعث آپس میں بھائی بھائی ہوگئے، اور تم ( دوزخ کی ) آگ کے گڑھے کے کنارے پر ( پہنچ چکے ) تھے پھر اس نے تمہیں اس گڑھے سے بچا لیا، یوں ہی اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پا جاؤ ۔


اور ضرور تم میں ایک ایسی جماعت ہونی چاہیے ۔ جو نیکی کی دعوت دے اور نیکی کا حکم کرے اور برائی سے روکے اور یہی جماعت حقیقی فلاح پانے والا ہے ۔


اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے تھے اور جب ان کے پاس واضح نشانیاں آچکیں اس کے بعد بھی اختلاف کرنے لگے، اور انہی لوگوں کے لئے سخت عذاب ہے ۔ 


حوالہ ۔۔۔ القرآن کریم ۔ سورۃ ۔۔ آل عمران ، آیت نمبر ۔۔ 103 تا 105 


ان آیات مبارکہ سے ہمیں یہ معلوم ہوتے ہیں کہ امت مسلمہ کو تفرقہ بازی میں پرے بغیر ایک ایسا جماعت قائم کرنا ہوگا جس کا واحد مقصد احتساب ( یعنی امر بالمعروف ونہی عن المنکر ) کرنا ہو اور اس جماعت کو ان کی طرح نہیں ہونا چاہیئے جو پہلے فرقوں میں بٹ گئے تھے ۔ 


 تو اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی میں موجود زمانے میں کوئی ایسی جماعت موجود ہیں جو ان آیات کا مصداق ہو ۔ 


ایک نظر ہم اسلامی تنظیموں کی جانب دیکھے تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہاں بہت سارے جماعت اس مقصد ( امر بالمعروف ونہی عن المنکر ) کو اپنائے ہوئے ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان جماعتوں میں کوئی آیات مذکورہ کا مصداق ہے یا نہیں ۔ تو اب ان جماعتوں کا زار جائزہ لیتے ہیں ۔


ایک قسم ان میں ایسے جماعتوں کا ہے ۔ جو صرف نیکی کا دعوت دیتے ہیں ۔ مگر برائی کو روکنے کا کام نہیں کرتے ۔ دوسری قسم ان جماعتوں کی ہے جو نیکی کی دعوت دیتے ہیں اور برائی سے بھی روکتے ہیں ۔ لیکن وہ اپنے جماعت کو اپنے فرقے کے ساتھ خاص کرتے ہیں ۔ اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ان کی جماعتوں میں کوئی بھی دوسرے مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد نظر نہیں آتے ہیں ۔


یہ بات اظہر من الشمس ( یعنی بلکل واضح ) ہو گیا کہ امت مسلمہ میں کوئی ایسی جماعت نہیں جو رفع اختلاف ، امر بالمعروف ونہی عن المنکر ، اتحاد بین المسلمین کا علمبردار ہو ۔ 


ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا منظم جماعت بنایا جائے ۔ جس کا مقصد رفع اختلاف ، امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور اتحاد بین المسلمین ہو ۔ اگر ان میں سے ایک مقصد چھوڑ کر باقی مقاصد کو اپنائے تو بھی وہ جماعت مذکورہ بالا آیات کا مصداق ہرگز نہیں ہوگا ۔ 


اس بنا پر میں نے اسلامی احتسابی جماعت کا بنیاد رکھا جس کا مقصد رفع اختلاف ، امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور اتحاد بین المسلمین ہے ۔ اور بلا شبہ یہ جماعت مذکورہ بالا آیات کا مصداق ہے ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

دعوت عام

اسلامی سیاست کے وہ ۵ حقائق جو آپ کو حیران کر دیں گے: ایک فکری مطالعہ